بارے میں کوئی خواب دیکھا ہے تو بیان کر و۔ ''میں نے کہا: ''مجھے تمہارے سامنے وہ خواب بیان کرتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی ہے ۔'' تو وہ کہنے لگا:'' اے مالک بن دینار(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )! تم نے جوخواب دیکھاہے وہ بیان کرو اور مجھ سے شر م نہ کرو ۔''
(حضرت سیدنا مالک بن دیناررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ) بالآخر مَیں نے اسے اپنا خواب سنایا ۔خواب سن کر وہ کافی دیر تک روتا رہا ، پھر کہنے لگا :'' اے مالک بن دینار(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )! مسلسل چالیس سال سے میرے بارے میں حج کے موقع پر اسی طرح کا خواب کسی نیک وزاہد بندے کو دکھا یا جاتا ہے اور اسے بتا یا جاتا ہے کہ میں جہنمی ہوں ۔ ''حضرت سیدنا مالک بن دینارعلیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں کہ یہ باتیں سن کر میں نے اس سے پوچھا :'' کیا تیرے اور اللہ عزوجل کے درمیان کوئی بہت بڑا گناہ حائل ہے ؟'' اس نے کہا :''ہاں !میرا گناہ زمین و آسماں اور عرش وکرسی سے بھی بڑا ہے ۔''میں نے کہا: ''مجھے تم اپنا وہ گناہ بتاؤ تاکہ میں لوگوں کو اس کے اِرتکاب سے بچا ؤں اور انہیں اس گناہ سے ڈراؤں جس کی سزا تم بھگت رہے ہو۔ ''
تووہ کہنے لگا:'' اے مالک بن دیناررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! مَیں شراب کا عادی تھا اور ہر وقت شراب کے نشے میں مدہوش رہتا۔ ایک مرتبہ میں اپنے ایک شرابی دوست کے پاس گیا۔میں نے وہاں خوب شراب پی پھر جب مجھ پر نشہ طاری ہونے لگا اور میری عقل پرپردہ پڑگیا تومیں نشے کی حالت میں گرتا پڑتا اپنے گھر پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹا یا۔ میری زوجہ نے دروازہ کھولا ۔میں گھر میں داخل ہو ا تو میری والدہ تنور میں آگ جلا کر لکڑیاں ڈال رہی تھی او راس میں خوب آگ بھڑک رہی تھی ۔''
جب میری والدہ نے مجھے نشے کی حالت میں دیکھاتو میری طر ف ا ۤئی۔ مَیں لڑکھڑاکر گرنے لگا تواس نے مجھے تھام لیا اور کہنے لگی:'' آج شعبان المعظم کی آخری تاریخ ہے اوررمضان المبارک کی پہلی رات شروع ہونے والی ہے، لوگ صبح روزہ رکھیں گے اور تیری صبح اس حالت میں ہوگی کہ تُو شراب کے نشے میں ہوگا ،کیا تجھے اللہ عزوجل سے حیا نہیں آتی؟ '' یہ سن کر مجھے غصہ آگیا اور میں نے ایک گھونسااپنی والدہ کے سینے پر مارا اور اسے اُٹھا کر جلتے ہوئے تنور میں ڈال دیا، مَیں اس وقت نشے میں تھا اور میرے ہوش وحواس بحال نہ تھے،جب میری زوجہ نے یہ درد نا ک منظر دیکھا تو اس نے مجھے دھکیل کر ایک کوٹھڑی میں بندکردیااورباہر سے کنڈی لگادی تا کہ پڑوسی میر ی آواز نہ سن سکیں اور انہیں معاملے کی خبر نہ ہو۔''
میں اسی طر ح نشے کی حالت میں پڑا رہا جب رات کافی گزر گئی تو مجھے ہوش آیا اب میرا نشہ دور ہوچکا تھا۔ میں دروازے کی طر ف بڑھا تو دروازہ بند تھا۔میں نے اپنی زوجہ کو آواز دی کہ دروازہ کھولو۔ اس نے بڑے سخت لہجے میں جواب دیا: ''میں دروازہ نہیں کھولوں گی ۔''میں نے کہا :''آخر تم مجھ سے اِتنی ناراض کیوں ہو؟ آخر مَیں نے ایسی کون سی خطا کی ہے ؟''اس نے کہا : '' تُو نے اتنی بڑی خطا کی ہے کہ تُو اس لائق ہی نہیں کہ تجھ پر رحم کیا جائے ۔''میں نے کہا :''آخربات کیا ہے؟ مجھے بھی تو