ایسی ہی غیبی آواز سنائی دی، پھر کہا گیا : ''اے مالک بن دینار ! تُو وہ نہیں جس کا ذکر کیا جارہا ہے بلکہ وہ تو خراسان کا ایک شخص ہے جو بلخ شہر میں رہتا ہے، اس کا نام محمد بن ہرون بلخی ہے ۔اللہ عزوجل اس سے شدید ناراض ہے، اس کا حج مردو د ہے اور اس کے منہ پر مار دیا گیا ہے ۔''
حضرت سیدنا مالک بن دیناررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''میں صبح خراسان سے ا ۤئے ہوئے حاجیوں کے قافلے میں گیا انہیں سلام کیا اوران سے پوچھا : ''کیا تم میں بلخ شہر کے حجاج موجود ہیں ؟ ''انہوں نے کہا :''ہاں !ہم میں بلخ کے کئی حاجی موجود ہیں ۔''میں نے پھرپوچھا: ''کیا تم میں کوئی محمد بن ہرون بلخی ہے؟'' انہوں نے کہا: ''مرحبا! اس نیک شخص کو کون نہیں جانتا ، اس سے بڑھ کر عا بد وزاہد پور ے خراسان میں کوئی نہیں ۔ ''
(حضرت سیدنا مالک بن دیناررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ)مجھے ان لوگو ں کی زبانی اس کی تعریف سن کر بڑا تعجب ہوا کیونکہ خواب میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ بہرحال میں نے ان سے پوچھا :'' اس وقت وہ کہا ں ہوگا؟''لوگو ں نے کہا:'' وہ چالیس سال سے مسلسل روزے رکھ رہا ہے او رساری ساری رات عبادت میں گزار دیتا ہے، اگر تم اسے تلاش کرنا چاہتے ہو تو مکہ مکرمہ کے کسی ٹو ٹے پھوٹے مکان میں تلاش کر و وہ ایسی ہی جگہوں میں قیام کرتا ہے۔''
ان لوگوں سے یہ معلومات حاصل کرنے کے بعد میں مکہ شریف کے ویران علاقے کی طر ف گیا اور اس ابن ہرون کو ڈھونڈ نے لگا۔بالآخر ایک دیوار کے پیچھے میں نے ایک شخص کو دیکھا۔میں نے جان لیاکہ یہی ابن ہرون ہے ۔اس کی حالت یہ تھی کہ اس کا سیدھا ہاتھ کٹا ہو اتھا اور اس ہاتھ کی ہڈی میں سوراخ کر کے زنجیر ڈال دی گئی تھی۔
ابن ہرون نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کو زنجیر کی مدد سے گر دن سے لٹکایا ہوا تھا۔اسی طر ح اس نے اپنے قدموں میں بھی بیڑیاں ڈال رکھی تھیں او روہ مشغولِ عبادت تھا۔جب اس نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو وہ میری طرف متوجہ ہو ا اور کہنے لگا: ''اے اللہ عزوجل کے بندے! تُو کو ن ہے او رکہا ں سے آیا ہے ؟'' میں نے کہا: ''میرا نام مالک بن دینار(علیہ رحمۃ اللہ الغفار) ہے اور مَیں بصرہ کا رہنے والا ہوں ۔ ''وہ کہنے لگا:'' اچھا! تم و ہی مالک بن دینار(علیہ رحمۃ اللہ الغفار ) ہو جن کی علمیت اور زُہد و تقوی کے ڈنکے پورے عراق میں بج رہے ہیں۔'' میں نے کہا :'' عالم تو اللہ عزوجل کی ذات ہے اور زاہد وعا بد حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃاللہ المجید ہیں ،وہ اگر چاہیں توخوب عیش وعشرت سے زندگی گزار سکتے ہیں لیکن با دشاہت کے باوجود انہوں نے زُہد و تقوی اختیار کیا او ردنیا سے بے رغبتی ان کے اندر بد رجہ اَتم پائی جاتی ہے ، ہمیں تو دنیاوی نعمتیں میسر ہی نہیں اس لئے ان سے دور ہیں۔''
اُس نے مجھ سے کہا: ''اے مالک بن دینار (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )! تم میرے پاس کس لئے آئے ہو ؟ اگر تم نے میرے