Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
201 - 410
    میں نے اس بڑھیاسے کہا : ''تمہارے باپ اورتمہاری باقی قوم کا کیا ہوا؟ کہنے لگی:'' انہیں موت نے آلیا،وہ اس دارِفانی سے رخصت ہوگئے، زمانے نے انہیں فنا کردیا، ان کے بعد مَیں اس پرندے کے بچے کی طر ح ہو گئی ہوں جو کمزور گھونسلے میں اکیلا بیٹھا ہو ۔'' میں نے اس سے کہا :'' کیا تمہیں یا د ہے کہ چند سال پہلے ایک مرتبہ ہم یہاں سے گزرے تھے ،اس وقت یہ جگہ آباد تھی او ریہاں جشن کی تیاریا ں ہو رہی تھیں، اس محل کے صحن میں چند لڑکیا ں ایک حسین وجمیل دوشیزہ کے گر د جمع تھیں اور وہ دوشیزہ دف بجاتے ہوئے یہ شعر گنگنارہی تھی:
مَعْشَرَ الْحُسَّادِ مُوْتُوْا کَمَدًا
    ترجمہ: اے حاسدو! تم شدت غم سے مرجاؤ۔

    یہ سن کر بو ڑھی عورت نے ر وتے ہوئے کہا: ''اللہ عزوجل کی قسم! مجھے وہ دن اچھی طر ح یا دہے ،ان لڑکیوں میں میری بہن بھی تھی اور دف بجا کر شعر گنگنانے والی دوشیزہ مَیں ہی تھی ۔

     یہ سن کر میں نے کہا:'' اگر تم پسند کر وتو ہم تجھے اپنے ساتھ اپنے وطن لے جائیں او رتم ہمارے اہل خانہ کے ساتھ رہو؟ میری یہ بات سن کر اس نے کہا :'' یہ بات مجھ پر بہت گراں ہے کہ میں اپنی اس جگہ کو چھوڑ دوں، مَیں اسی جگہ رہنا پسند کرو ں گی یہاں تک کہ مجھے بھی اپنے باپ او رقوم کی طرح موت آجائے اور میں بھی اس دنیا ناپائیدارسے رخصت ہوجاؤں۔''

    پھر میں نے پوچھا :'' تمہارے کھانے پینے کا بندو بست کس طر ح ہو تا ہے؟'' اس نے کہا :'' یہاں سے قافلے گزرتے ہیں او ر میرے لئے کھانا وغیرہ پھینک جاتے ہیں،مَیں اسے کھا کر گزارا کرلیتی ہوں او ریہاں ایک گھڑا موجود ہے جو پانی سے بھر ا رہتا ہے، مَیں نہیں جانتی کہ اسے کون بھرتا ہے، بس اسی میں سے میں پانی پی لیتی ہوں، اس طر ح میری زندگی کے دن گزر رہے ہیں ۔''

     پھر اس نے مجھ سے پوچھا: ''اے مسافر !کیا تمہارے قافلے میں کوئی عورت ہے ؟میں نے کہا:'' نہیں ۔'' پھرپوچھا : ''کیاتمہارے پاس کوئی سفید چادر ہے؟ '' میں نے کہا :''ہاں، چادر تو ہے۔'' پھر میں نے اسے دو چادریں لاکر دیں جو بالکل نئی تھیں ۔ چادریں لے کر وہ ایک طر ف چلی گئی،کچھ دیر بعدانہیں پہن کر واپس آئی اور کہنے لگی: ''میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ مَیں دُلہن بنی ہوئی ہوں اورایک گھر سے دوسرے گھر کی جانب جارہی ہوں، یہ خواب دیکھ کر مجھے گمان ہو رہا ہے کہ میںآج مرجاؤں گی، کاش! کوئی عورت ہوتی جو میرے غسل وغیرہ کا اِنتظام کر دیتی۔'' ابھی وہ بوڑھی عورت مجھ سے یہ باتیں کرہی رہی تھی کہ یکدم زمین پر گری اور اس کی روح قَفسِ عنصری سے پرواز کر گئی ۔ ہم نے اسے تیمم کرایا او راس کی نماز جنازہ پڑھی پھر اسے وہیں دفن کردیا۔ 

    جب میں حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اورانہیں یہ واقعہ بتا یاتو وہ رونے لگے اور فرمایا: ''اگر میں تمہاری جگہ وہاں ہوتا تو ضرور ایک کریم وفیاض باپ کی اس بیکس و بے بس بیٹی کو اپنے ساتھ لے آتا لیکن مقدَّر کی بات
Flag Counter