فکر لاحق ہوئی کہ ہم اپنی جوان بہن کس کے سپر د کرکے جائیں انہوں نے بہت غورو فکر کیالیکن کوئی ایسا قابل اِعتماد شخص نظرنہ آیا جس کے پاس وہ اپنی جوان کنواری بہن کو چھوڑکر جاتے، پھر انہیں اس عابد کا خیال آیا او روہ سب اس بات پر راضی ہو گئے کہ یہ عابد قابل اِعتماد ہے، ہم اپنی بہن کو اس کی نگرانی میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
چنانچہ وہ تینوں اس عابد کے پاس آئے اور اسے صورت حال سے آگاہ کیا۔ عابد نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا:'' میں یہ ذمہ داری ہرگز قبول نہیں کرو ں گا، لیکن وہ تینوں بھائی اس کی منت سماجت کرتے رہے بالآخر وہ عابد اس بات پر راضی ہوگیا کہ مَیں تمہاری بہن کو اپنے ساتھ نہیں رکھوں گا بلکہ میرے مکان کے سامنے جو خالی مکان ہے تم اپنی بہن کو اس میں چھوڑ جاؤ، وہ تینوں بھائی اس پر راضی ہوگئے اور اپنی بہن کو اس عابد کے مکان کے سامنے والے مکان میں چھوڑ کر جہاد پر روانہ ہوگئے ۔
وہ عابد روزانہ اپنے عباد ت خانے سے نیچے اُترتااور در وازے پر کھانا رکھ دیتا پھراپنے عبادت خانے کا دروازہ بند کر کے اُوپر اپنے عبادت خانے میں چلا جاتا پھر لڑکی کو آواز دیتا کہ کھانا لے جاؤ ،لڑکی وہاں سے کھانا لے کر چلی جاتی۔
اس طرح کا فی عرصہ تک عابد اور اس لڑکی کا آمنا سامنا نہ ہوا ۔وقت گزرتا رہا ، ایک مرتبہ شیطان مردود نے اس عابد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ وہ بے چاری اکیلی لڑکی ہے، روزانہ یہاں کھانا لینے آتی ہے، اگر کسی دن اس پر کسی مرد کی نظر پڑگئی اور وہ اس کے عشق میں گرفتار ہوگیا تو یہ کتنی بری بات ہے،کم از کم اتنا تو کر کہ دن کے وقت تو اس لڑکی کے دروازے پر کھانا رکھ آیاکر،تا کہ اسے باہر نہ نکلنا پڑے، اس طر ح تجھے زیادہ اَجر بھی ملے گا اور وہ لڑکی غیر مردو ں کے شر سے بھی محفوظ رہے گی، اس عابد کے دل میں یہ وسوسہ گَھر کر گیا اور وہ شیطان کے جال میں پھنس گیا ۔
چنانچہ وہ روزانہ دن میں لڑکی کے مکان پر جاتااور کھانا دے کر واپس آجاتا لیکن اس سے گفتگونہ کرتا پھر کچھ عرصہ بعد شیطان نے اسے تر غیب دلائی کہ تیرے لئے نیکی کمانے کا کتنا عظیم موقع ہے کہ تُو کھانا اس کے گھر میں پہنچا دیا کر ،تا کہ اس لڑکی کو پریشانی نہ ہو، اس طر ح تجھے اس کی خدمت کا ثواب زیادہ ملے گا ، چنانچہ اس عابد نے اب گھر میں جاکر کھانا دینا شرو ع کردیا کچھ عرصہ اسی طر ح معاملہ چلتا رہا ،شیطان نے اسے پھر مشورہ دیا کہ دیکھ وہ لڑکی کتنے دنوں سے اکیلی اس مکان میں رہ رہی ہے، اسے تنہائی میں وحشت ہوتی ہوگی، اگر تُو اس سے کچھ دیر بات کرلے اور اس کے پاس تھوڑی بہت دیر بیٹھ جائے تو اس کی وحشت ختم ہوجائے گی اور اس طر ح تجھے بہت اَجر و ثواب ملے گا۔ عابد پھر شیطان لعین کے چکر میں پھنس گیا اور اس نے اب لڑکی کے پاس بیٹھنا اور اس سے بات چیت کرنا شرو ع کردی ، پہلے پہل تو اس طرح ہوا کہ وہ عابد اپنے عبادت خانے سے بات کرتا اور لڑکی اپنے مکان سے، پھر وہ دونوں دروازوں پر آکر گفتگو کرنے لگے، پھر شیطان کے اُکسانے پر وہ عابد اس لڑکی کے مکان