حاوی ہوجاتا ہوں۔''
یہ سن کر آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے استفسار فرمایا: ''کس سبب سے تُو نیک لوگوں پر حاوی ہوجاتا ہے؟'' شیطان نے کہا: '' جب انسان (اپنے اعمال پر) مغرورہوجائے،اپنی نیکیوں کو بہت زیادہ شمار کرنے لگے اور گناہوں کوبھول جائے تو میں اس پر غالب آجاتا ہوں اوراسے مضبوطی سے جکڑ لیتا ہوں ۔''
اے موسیٰ (علیہ السلام) ! مَیں آپ کو تین باتوں سے خبر دار کرتا ہوں ،
(۱)۔۔۔۔۔۔ کبھی بھی کسی ایسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہنا جو اَجنبیہ (یعنی غیر محرم) ہو کیونکہ جب انسان کسی غیر محرم عورت کے ساتھ ہوتا ہے تو ان دونوں کے درمیان تیسرا مَیں ہوتا ہوں اور انہیں گناہ میں مبتلا کر دیتا ہوں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ جب کبھی اللہ عزوجل سے کوئی وعدہ کرو تو اسے ضرور پورا کرو،اور اسے پورا کرنے میں جلدی کرو کیونکہ جب بھی کوئی شخص اللہ عزوجل سے وعدہ کرتا ہے تو مَیں اور میرے ساتھی اس کو وعدہ پورا کرنے سے روکتے ہیں ۔
(۳)۔۔۔۔۔۔ جب بھی کسی پر صدقہ کرنے کا ارادہ کرو تو فورا ًاس پر عمل کر و کیونکہ جب بھی کوئی شخص ایسا نیک ارادہ کرتاہے تو مَیں اور میرے ساتھی اسے وَرْغلاتے ہیں اور اسے اس نیک عمل سے روکتے ہیں۔اتنا کہنے کے بعد شیطان مردود آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام کے پاس سے رخصت ہوگیاوہ یہ کہتا جا رہا تھا:''ہائے افسوس! موسیٰ (علیہ السلام) میرے تینوں وَاروں سے واقف ہوگئے ،ان کے ذریعے ہی تو میں لوگو ں کو بہکاتا ہوں، اب موسیٰ (علیہ السلام) تو لوگوں کوان با توں سے آگا ہ کر دیں گے۔''
(اللہ عزوجل ہمیں شیطان کے حملوں سے محفوظ فرما ئے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)