لیکن اس نیک شخص نے کوئی بے صبری والے جملے زبان سے نہ نکالے بلکہ کہا کہ اس گدھے کے مرجانے ہی میں ہماری عافیت ہوگی، پھر کچھ عرصہ کے بعد کُتے کو بھی بیماری نے آلیا اور وہ بھی مرگیا ،لیکن اس صابر و شاکر شخص نے پھر بھی بے صبر ی اور ناشکری کا مظاہر ہ نہ کیا بلکہ وہی الفاظ دہرائے کہ ہمارے لئے اس کے ہلاک ہوجانے میں ہی عافیت ہوگی۔
وقت گزرتا رہا کچھ دنوں کے بعد دشمنوں نے رات کو اس جنگل کی آبادی پر حملہ کیا اور ان تمام لوگو ں کو پکڑ کر لے گئے جو اس جنگل میں رہتے تھے ان سب کی قید کا سبب یہ بنا کہ ان کے پاس جانور وغیرہ موجود تھے جن کی آواز سن کر دشمن متوجہ ہوگیا اور دشمنوں نے جانوروں کی آواز سے ان کی رہائش کی جگہ معلوم کرلی پھر ان سب کو ان کے مال واَسباب سمیت قیدکر کے لے گئے۔
لیکن وہ نیک شخص اور اس کا ساز وسامان سب بالکل محفو ظ رہا کیونکہ اس کے پاس کوئی جانور ہی نہ تھا جس کی آواز سن کر دشمن اس کے گھر کی طر ف آتے ۔اب اس نیک مرد کا یقین اس بات پر مزید پختہ ہوگیا کہ اللہ عزوجل کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے ۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
(میٹھے اسلامی بھائیو!اس مرد کامل کا اس بات پر پختہ یقین تھاکہ اللہ عزوجل جب بھی ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اس میں ہمارا ہی فائدہ اورہماری ہی بھلائی پیشِ نظر ہوتی ہے اگر چہ بظاہر نظر نہ بھی آئے )