اور دنیا اسے دھوکا دیتی جارہی ہے وہ دنیا پر اعتما د کرتاہے اور دنیا اسے دھوکا دیتی ہے اور اس سے بے وفائی کرتی ہے۔
افسوس ہے ان لوگوں پر جو دنیا کے دھوکے میں پھنسے ہوئے ہیں ۔عنقریب انہیں وہ چیز (یعنی موت ) پہنچنے والی ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں اور جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ دن (یعنی قیامت کادن)ان سے بہت قریب ہے۔ جس چیز کووہ پسند کرتے ہیں اور جو محبوب اشیاء ان کے پاس ہیں عنقریب وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اس دارِفانی سے رخصت ہوجائیں گے ۔
اے لوگو! تم فضول گوئی سے بچتے رہو، کبھی بھی ذکر اللہ عزوجل کے علاوہ اپنی زبان سے کوئی لفظ نہ نکالو، ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے، بے شک دل نرم ہوتے ہیں لیکن فضول گوئی انہیں سخت کردیتی ہے۔
اور جس شخص کا دل سخت ہوجائے وہ اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے(یعنی اگر تم اللہ عزوجل کی رحمت کے امید وار ہو تو اپنے دلوں کو سختی سے بچاؤ)
(اے ہمارے پاک پروردگار عزوجل !ہمیں قساوت قلبی کی بیماری سے بچا ،اور ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے معمور رکھ، فضول گوئی سے ہماری حفاظت فرما اورہر وقت اپنا ذکر کرنے والی زبان عطا فرما)
میں بے کار باتوں سے بچ کر ہمیشہ
کروں تیری حمدو ثنا یا الٰہی عزوجل!