Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
184 - 410
    امیر طولون نے مجھے بتاياکہ ''جب تم لوگ یہاں سے چلے گئے تو میں آرام کے لئے اپنے بستر پر لیٹا،ابھی میری آنکھیں بند ہی ہوئی تھیں کہ میں نے خواب میں ایک شہسوار کو دیکھا جو ہوا میں اس طرح اڑتاآرہا تھا جیسے کوئی شہسوار زمین پر چلتا ہے، اس کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا ۔مجھے اس کی یہ حالت دیکھ کر بڑا تعجب ہوا ، وہ اڑتا ہوا میرے دروازے پر آیا پھر گھوڑے سے اترا اور نیزے کی نوک میرے پہلو میں رکھ دی اور کہنے لگا:'' فوراً اُٹھو اور حسن بن سفیان اور ان کے رفقاء کو تلاش کرو، جلدی اُٹھو ، جلدی کرو ، وہ دین کے طلبا ء راہِ خدا عز وجل کے مسافر تین دن سے بھوکے ہیں اور فلاں مسجد میں قیام فرماہیں۔''

    میں نے اس پر اسرار شہسوار سے پوچھا: ''آپ کون ہیں ؟'' اس نے کہا:'' میں جنت کے فرشتو ں میں سے ایک فرشتہ ہوں ،اور تمہیں ان دین کے طلباء کی حالت سے خبردار کرنے آیا ہوں، فوراً ان کی خدمت کا انتظام کرو۔'' اتنا کہنے کے بعد وہ سوار میری نظر وں سے اوجھل ہوگیا اور میری آنکھ کھل گئی بس اس وقت سے میرے پہلومیں شدید درد ہو رہا ہے۔ تم جلدی کرو اور یہ سارا مال اور کھانا وغیرہ لے کران دین کے طلبا ء کی خدمت میں پیش کر دو تاکہ مجھ سے یہ تکلیف دور ہوجائے۔

    حضرت سیدنا حسن بن سفیان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' اس نوجوان سے یہ باتیں سن کر ہم سب بڑے حیران ہوئے اور اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا اور اس رحیم وکریم مالک کی عطا پر سربسجود ہوگئے ۔

    پھر ہم سب دوستوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ابھی رات ہی کو ہمیں اس جگہ سے کوچ کرجاناچاہے ورنہ ہمارا واقعہ لوگو ں میں مشہور ہوجائے گا اور حاکم شہر ہماری حالت سے واقف ہو کر ہمارا ادب واحترام کریگا ،اس طرح لوگو ں میں ہماری نیک نامی ہوجائے گی، ہوسکتا ہے پھر ہم ریا کاری او رتکبر کی آفت میں مبتلا ہوجائیں۔ ہمیں لوگو ں سے عزت افزائی نہیں چاہے، ہمیں تو اپنے رب عزوجل کی خوشنودی چاہے۔ ہم اپنا عمل صرف اپنے مالک حقیقی کے لئے ہی کرنا چاہتے ہیں، لوگو ں کے لئے ہم عمل کرتے ہی نہیں اور نہ ہی ہمیں یہ بات پسند ہے کہ ہمارے اعمال سے لوگ واقف ہوں۔ چنانچہ ہم سب دوستوں نے راتوں رات وہاں سے سفر کیا، اس علاقے کوخیر باد کہا ،اور ہم مختلف علاقوں میں چلے گئے۔علمِ دین کی راہ میں ایسی مشقتوں اور تکالیف پر صبروشکر کرنے کی وجہ سے ہم میں سے ہر ایک اپنے دور کا بہترین محدث اور ماہر فقیہہ بنا اور علم دین کی بر کت سے ہمیں بارگاہ خداوندی عزوجل میں اعلیٰ مقام عطا کیا گیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ حَمْدًاکَثِیْرًا۔

    پھر جب صبح امیر طولون اس محلے میں آیا اور اسے معلوم ہوا کہ ہم یہاں سے جاچکے ہیں تو اس نے اس تمام محلے کو خریدا اور وہاں ایک بہت بڑا جامعہ بنواکراسے ایسے طالب علموں کے لئے وقف کردیا جووہاں دین کا علم سیکھیں، پھر اس نے تمام طلباء کی خوراک اور دیگر ضروریات اپنے ذمہ لے لیں اور سب کی کفالت خود ہی کرنے لگاتاکہ آئندہ کسی طالب علم کوکبھی ایسی پریشانی