لئے ہیں جس نے مجھے ایسی اولاد عطافرمائی جودین کے معاملہ میں میری مدد کرتی ہے۔''
پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً ہی آرام کئے بغیر باہرتشریف لائے اور اعلان کروادیاکہ جس کاکسی پر کوئی حق ہے یاجس کوکوئی مسئلہ درپیش ہے وہ آجائے میں اسے اس کاحق دلواؤں گااور اس کے مسائل حل کروں گا۔ تھوڑی دیر میں ایک ذمی کافرآیااور کہنے لگا: '' میں حمص سے آیاہوں اور آپ سے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ چاہتاہوں ۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: ''آخر تمہارا معاملہ کیاہے؟ تم کس بات کافیصلہ چاہتے ہو؟''وہ ذمی جواباً کہنے لگا:'' عباس بن ولیدنے میری زمین مجھ سے غصب کرلی ہے۔'' عباس بن ولید بھی اسی مجلس میں موجود تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا:'' ا ے عباس! تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟'' عباس بن ولید کہنے لگے:'' حضور !یہ زمین مجھے امیر المؤمنین ولید بن عبد الملک نے دی تھی، ان کی لکھی ہوئی سند میرے پاس موجود ہے۔''پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذمی سے فرمایا:'' اے ذمی !تواس بارے میں کیا کہتا ہے؟ اس کے پاس تو زمین کی ملکیت کی سند ولید بن عبدالملک کی طرف سے موجود ہے جس کے مطابق یہ زمین عباس کی ملکیت میں ہے۔'' ذمی کہنے لگا:''اے امیر المؤمنین ! میں اپ سے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ چاہتاہوں۔'' امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''ولید بن عبد الملک کی کتاب (یعنی سند) کی بجائے کتاب اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ لہٰذا اے عباس! تو یہ زمین اس ذمی کوواپس کردے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ زمین عباس بن ولید سے لے کر اس ذمی کودلوائی تب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوقرار حاصل ہوا۔اسی طرح جو بھی جائداد اور زمین وغیرہ شاہی خاندان کے پاس ناحق موجودتھی وہ سب کی سب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے حق داروں کوواپس کرادی ،جن لوگوں کے اموال ناحق مقبوض تھے سب ان کوواپس کردئیے گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتہائی عدل وانصاف کا مظاہرہ کیا اورشاہی خاندان کے پاس کوئی چیزبھی ایسی نہ چھوڑی جس پر کسی دوسرے کاحق ثابت ہورہا ہو۔
جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عدل وانصاف پر مبنی ان فیصلوں کی خبر عمربن ولید بن عبد الملک کوپہنچی تو اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک مکتوب بھیجااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبہت زیادہ سخت الفاظ سے مخاطب کیا۔چنانچہ اس نے لکھا:
''اے عمربن عبدالعزیز (علیہ رحمۃ اللہ المجید) ! تم نے اپنے سے پہلے تمام خلفاء پر عیب لگایاہے اور تم حد سے تجاوز کرگئے ہو، تم نے بغض وعناد کی وجہ سے اپنے پہلوں کے طریقوں کو چھوڑدیاہے اور ان کے خلاف چل رہے ہو،تم نے قریش اور ان کی اولاد کی میراث کو جبراََبیت المال میں داخل کرکے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی ہے اور قطع رحمی سے کام لیاہے۔اے عمر بن عبد العزیز !اللہ عزوجل سے ڈرو اور اس بات کاخیال کرو کہ تم ظلم وزیادتی سے کام لے رہے ہو،اے عمر بن عبد العزیز !ابھی تمہارے پاؤں صحیح طور پر تختِ