Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ اول)
131 - 410
کے احوال میں غور وفکرکیاکرووہ بھی دنیامیں آئے اور ز ندگی گزار کرچلے گئے اسی طرح تم بھی چلے جاؤگے۔ اگر تم ان کے احوال کویادنہ رکھو گے تو موت تمہارے لئے بہت سختی کاباعث ہوگی لہٰذا موت سے پہلے موت کی تیاری کرلو۔

    اور بے شک یہ امت مسلمہ اپنے رب عزوجل ،اس کے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور اس کی کتاب قرآن مجید کے بارے میں ایک دوسر ے سے جھگڑا نہیں کرے گی، اس مسئلے میں ان کے درمیان اختلاف نہ ہوگا بلکہ ان کے درمیان عداوت وفساد تو دراہم ودنانیر کی وجہ سے ہوگا۔ اللہ عزوجل کی قسم! میں کسی ایک کوبھی ناحق کوئی چیز نہ دوں گااور حق دار کواس کاحق ضرور دوں گا۔'' پھرآپ نے مزید فرمایا:'' اے لوگو!جو اللہ عزوجل کی اطاعت کرے، تم پر اس کی اطاعت واجب ہے اور جواللہ عزوجل کی اطاعت نہ کرے اس کی اطاعت ہرگز نہ کرو۔ جب تک میں اللہ عزوجل کی اطاعت کرتارہوں اس وقت تک تم میری اطاعت کرنااگر تم دیکھو کہ (معاذاللہ عزوجل )میں اللہ عزوجل کی اطاعت نہیں کررہاتو اس معاملے میں تم میری ہرگز اطاعت نہ کرنا۔''

    یہ خطبہ دے کر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔اپنا مال ودولت اور تمام کپڑے وغیرہ منگوائے اور انہیں بیت المال میں جمع کرادیاپھر تمام شاہی لباس جو خلفاء کے لئے تھے اور تمام آرائشی چیزیں منگوائیں اور حکم دیاکہ ان کوبیچ کربیت المال میں جمع کرا دو۔ آپ کے حکم کی تعمیل ہوئی اور تمام رقم مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کردی گئی۔ 

    آپ دن رات لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف رہتے کبھی تو ایسا بھی ہوتاکہ آرام کے لئے بالکل وقت نہ ملتا اور آ پ لوگوں کے مسائل کی وجہ سے آرام کوترک کردیتے۔ ایک دن ظہر کی نماز سے قبل بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس ہونے لگی تو کچھ دیر قیلولہ کرنے کے لئے کمرے میں تشریف لے گئے ابھی آ پ لیٹے ہی تھے کہ آپ کے صاحبزادے حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے : ''اے امیرالمؤمنین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ! آپ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) یہاں کیسے تشریف فرماہیں ؟''آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے فرمایا: ''مجھے مسلسل بے آرامی کی وجہ سے بہت زیادہ تھکاوٹ ہورہی تھی اس لئے کچھ دیر کے لئے آرام کی غرض سے آیاہوں۔''توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے نے کہا: ''حضور! لوگ آپ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے منتظر ہیں اور مظلوم اپنی فریاد لے کر حاضر ہیں اور آپ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)یہاں آرام فرماہیں۔'' آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا:''میں ساری رات نہیں سوسکا اب تھوڑی دیر آرام کرکے ظہر کے بعد لوگوں کے مسائل حل کروں گا۔''توآپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے عظیم صاحبزادے نے کہا: ''اے امیرالمؤمنین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! کیاآپ کویقین ہے کہ آپ ظہر تک زندہ رہيں گے؟

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنے لختِ جگر کافکرِ آخرت سے بھرپوریہ جملہ سنا تو فرمایا: '' اے میرے بیٹے ! میرے قریب آؤ۔''جب وہ قریب آئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی پیشانی کوبوسہ دیا اور فرمانے لگے:'' تمام تعریفیں اللہ عزوجل کے