ساکنہ کے علاوہ اورکوئی ساکن حرف ہوتو ھائے ضمیر مضموم ہوگی۔
مثلاً اِسْمُہ، ، لَہٗ ، مِنْہ،
نوٹ : مگر اس قاعدے سے ایک کلمہ مستثنیٰ ہے ۔ وَیَتَّقْہٖ
مدّہ کرنا : بعض اوقات ھائے ضمیری کے ضمّہ کو ضَمّہ اشباعی سے اورکسرہ کو کسرہ اشباعی سے بدل دیتے ہیں ۔
قاعدہ : اگرھائے ضمیر کا مابعد اورماقبل دونوں متحرک ہوں تو ھائے ضمیر کی حرکت کو کھینچ کر پڑھیں گے یعنی مدّکرینگے مثلاً وَمَا لَہٗ فِی الآخِرَۃِ ، وَرَسُوْلُہٗ اَحَقُّ
نوٹ: اس قاعدے سے ایک کلمہ مستثنیٰ ہے ۔ یَرْضَہُ لَکُمْ
مدّہ نہ کرنا : قاعدہ : ھائے ضمیر کے ما قبل یا مابعد میں سے کوئی حرف ساکن ہو تو ھائے ضمیر میں مدّہ نہ ہوگا۔ مثلاً مِنْہُ ، لَہُ الْمَلْک
مگر اس قاعدے سے ایک کلمہ مستثنٰی ہے ۔ فِیْہٖ مُھَا نًا
(ii)ھائے سکتہ: کلمے کے آخر میں وہ ''ھا ئ'' جو کلمے کی آخری حرکت کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اس کا کوئی معنٰی نہیں ہوتا اسے ھائے سکتہ کہتے ہیں۔ یہ وقفاً و وصلاً ساکن پڑھی جاتی ہے ۔ پورے قرآن مجید میں نوکلمات کے آخر میں ہائے سکتہ کا اضافہ کیا گیا ہے وہ کلمات یہ ہیں ۔
(i)لَمْ یَتَسَنَّہْ(ii)مَالِیَہْ(iii)سُلْطَانِیَہْ(iv)مَاھِیَہْ(v)فَبِھُدٰھُمُ اقْتدِہْ
(vi)حِسَابِیَہْ (دومرتبہ) (vii)کِتَابِیَہْ(دومرتبہ آیاہے)
نوٹ : سورہ بقرہ میں لَمْ یَتَسَنَّہْ ۔ سورہ انعام میں فَبِھُدٰھُمُ اقْتدِہْ۔ سورۃ الحاقہ میں دو جگہ کِتٰبِیَہْ دو جگہ حِسَابِیَہْ اورمَالِیَہْ اورسُلْطٰنِیَہْ اورسورۃ القارعہ میں مَاھِیَہْ