طریقہ وقف (یعنی کس طرح وقف کیا جائے )
(i)اگر موقوف علیہ پر زبر ، زیر ،پیش ، دو زیر اوردوپیش ہوں تو ان کو ساکن کردیں گے ۔
جیسے کَسَبَ سے کَسَبْoاَلْحَطَبِ سے اَلْحَطَبْo
اَعْبُدُسے اَعْبُدُo مَسَدٍ سے مَسَدْo اَحَدٌسے اَحَدo
(ii)موقوف علیہ پر دوزبر ہوں تو وقوف میں الف سے بدل دیں گے۔
جیسے اَلْفَافاً سے اَلْفَافَا
(iii)موقوف علیہ پر گول تا''ۃ ''ہوتو وقف میں اس کو ھا '' ہ '' سے بدل دیں گے ۔
مثلاً قُوَّۃٌ سےقُوَّہْ
نوٹ : اگر لمبی'' تا '' ہے تو وقف میں ''ۃ ''ہی رہے گی۔ مثلاً بَیِّنٰتٍ سے بَیِّنٰتْ
(iv) موقوف علیہ ساکن ہو تو صرف آواز اورسانس توڑ کر وقف کرینگے مثلاً (وَالنْحَرْ)
موقوف علیہ کے لحاظ سے وقف کی اقسام
(i) وقف بالاسکان: جس پر وقف کیا اس کو ساکن کردیا جائے یہ تینوں حرکتوں میں ہوتاہے ۔ مثلاجیسے کَسَبَoاَلحَطَب ِ oاُعْبُدُ0
(ii) وقف با لروم : موقوف علیہ کی حرکت کے تہائی حصہ پڑھنے کو روم کہتے ہیں یہ وقف زیر، پیش میں ہوتاہے ۔دوزیر ، دوپیش بھی اسی میں شامل ہیں ۔مثلاً اَلْقَوْمِ ، قَوْمٍ اور اَلرَّسُوْلُ رَسُوْلٌ
(iii )وقف بالاشمام : موقف علیہ کو ساکن کرکے ہونٹوں سے ضمّہ کی طرف اشارہ کرنا یہ وقف ضمہ ہی میں ہوتاہے ۔ مثلاً اَلرَّسُوْلُ ، رَسُوْلٌ