Brailvi Books

نصاب المنطق
88 - 144
سبق نمبر: 33
جہت مذکور ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے

قضیہ حملیہ کی تقسیم
     جہت سے مراد ایسا لفظ ہے جو مادہ قضیہ پر دلالت کرے ۔جیسے: ضرورت ،دوام، اطلاق اور امکان وغیرہ۔

اس اعتبار سے قضیہ حملیہ کی دوقسمیں ہیں:    ۱۔ مُوَجَّہَہ        ۲۔ مُطْلَقَہ
۱۔ موجہہ:
    موجہہ وہ قضیہ حملیہ ہے جس میں جہت ( ضرورت، دوام ،امکان وغیرہ) صراحتا ذکر کردی جائے۔ اس قضیہ کو رباعیہ بھی کہتے ہیں۔ مثلا :
اَلانسانُ حیوانٌ بالضرورۃ۔
۲۔مُطْلَقَہ:
    وہ قضیہ حملیہ جس میں جہت صراحتا ذکر نہ کی جائے۔مثلا :
اَلانسانُ حیوانٌ۔
موجہہ کی اقسام:
    قضیہ حملیہ موجہہ کی دوقسمیں ہیں :    ۱۔ بَسِیْطَہ         ۲۔ مُرَکَّبَہ
۱۔ بَسِیْطَہ:
    وہ قضیہ موجہہ جس میں حکم صرف ایجاب(یعنی اثبات) کا ہویا صرف سلب کا ۔مثلا :
اَلانسانُ حیوانٌ بالضرورۃِ۔
یا
اَلانسانُ لیس بحیوان بالضرورۃِ۔
Flag Counter