کُلَّمَا کَانتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ۔ وَکُلَّمَا کَانَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا فَالأَرْضُ مُضِیْئَۃٌ
کُلَّمَا کَانتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالأَرْضُ مُضِیْئَۃٌ۔
حملیہ وشرطیہ دونوں سے مرکب کی مثال:
کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا وَکُلُّ حَیَوَانٍ جِسْمٌ
کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ جِسْمًا۔
قیاس اقترانی کے نتیجہ دینے کی شکلیں
قیاس اقترانی خواہ حملی ہویاشرطی اس کی چارشکلیں ہیں۔ جنہیں اشکالِ اربعہ کہا جاتاہے۔ اور شکل کی تعریف سبق نمبر 41میں بیان کی جا چکی ہے۔
وہ شکل ہے جس میں حداوسط صغری میں محمول اورکبری میں موضوع بن رہی ہو۔ جیسے : ہر مومن اللہ کا پیارا ہے اور ہراللہ کا پیارا جنتی ہے نتیجہ ہر مومن جنتی ہے۔