Brailvi Books

نصاب المنطق
117 - 144
وَکُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ۔
۲۔قیاس اقترانی شرطی:
   وہ قیاس جوصرف قضایا شرطیہ یاقضایا حملیہ وشرطیہ دونوں سے مرکب ہو۔
صرف شرطیہ سے مرکب کی مثال:
    جیسے:
کُلَّمَا کَانتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ۔ وَکُلَّمَا کَانَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا فَالأَرْضُ مُضِیْئَۃٌ
اس کا نتیجہ آئے گا۔
کُلَّمَا کَانتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالأَرْضُ مُضِیْئَۃٌ۔
حملیہ وشرطیہ دونوں سے مرکب کی مثال:
    جیسے:
کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا وَکُلُّ حَیَوَانٍ جِسْمٌ
اس کا نتیجہ آئے گا
کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ جِسْمًا۔
قیاس اقترانی کے نتیجہ دینے کی شکلیں
    قیاس اقترانی خواہ حملی ہویاشرطی اس کی چارشکلیں ہیں۔ جنہیں اشکالِ اربعہ کہا جاتاہے۔ اور شکل کی تعریف سبق نمبر 41میں بیان کی جا چکی ہے۔
اشکال اربعہ کی تعریفات:
شکلِ اول:
    وہ شکل ہے جس میں حداوسط صغری میں محمول اورکبری میں موضوع بن رہی ہو۔ جیسے : ہر مومن اللہ کا پیارا ہے اور ہراللہ کا پیارا جنتی ہے نتیجہ ہر مومن جنتی ہے۔
Flag Counter