Brailvi Books

نصاب المنطق
104 - 144
سبق نمبر: 38
(۔۔۔۔۔۔تناقض کا بیان۔۔۔۔۔۔)
۱۔ تناقض:
    دوقضیوں کا ایجاب وسلب ہونے میں اس طرح مختلف ہو ناکہ ہر ایک اپنی ذات کے اعتبار سے اس بات کا تقاضا کرے کہ اگر پہلا قضیہ سچاہے تودوسرا ضرورجھوٹا ہے اوراگر پہلا جھوٹا ہے تودوسراضرور سچا۔جیسے زید سونے والاہے۔ زید سونے والانہیں ۔
نقیض:
    جن دو قضیوں میں تناقض ہو ان میں ہر قضیہ دوسرے کی نقیض کہلاتا ہے۔
تناقض کے تحقق کی شرائط:
    دو قضایا مخصوصہ کے درمیان تناقض کے ثبوت کیلئے آٹھ چیزوں میں متفق ہونا شرط ہے ان کو وحدات ثمانیہ بھی کہتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بھی شرط مفقود ہوئی تو تناقض کا تحقق نہ ہوگا۔ 

۱۔وحدت موضوع ۲۔وحدت محمول ۳۔وحدت مکان     ۴۔وحدت زمان    ۵۔وحدت شرط ۶۔ اضافت     ۷۔ جزوکل ۸۔ اورقوت وفعل میں وحدت کاہونا
۱۔ وحدت موضوع:
    دونوں قضیوں کا موضوع ایک ہو اگر موضوع ایک نہ ہواتوتناقض بھی نہیں ہوگا۔جیسے
زَیْدٌ قَائِمٌ
اور
زَیْدٌ لَیْسَ بِقَائِمٍ
میں تناقض ہے لیکن
زَیْدٌ قَائِمٌ
اور
عُمَرُ لَیْسَ بِقَائِمٍ
میں
Flag Counter