(گویا کہ زید چاند ہے) اسے ''حرفِ تشبیہ'' بھی کہتے ہیں ۔
۴۔ لٰکِنَّ:(لیکن)
یہ استدراک کے لیے لایاجاتاہے۔ یعنی سابق کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو دور کرنے کے لیے آتاہے۔ جیسے :
غَابَ زَیْدٌ لٰـکِنَّ صَدِیْقَہ، حَاضِرٌ
( زید غائب ہے لیکن اس کا دوست حاضر ہے)اسے ''حرف ِ استدراک''بھی کہتے ہیں۔
۵۔ لَیْتَ:(کاش)
یہ کسی چیز کی تمنا (آرزو)ظاہر کرنے کے لیے آتاہے ۔ جیسے:
لَیْتَ زَیْداً مَوْجُوْدٌ
(کاش! زید موجود ہوتا) اسے ''حرف تمنی'' بھی کہتے ہیں۔
۶۔ لَعَلَّ: (شاید)
یہ کسی چیز کی امید ظاہر کرنے کے لیے لایاجاتاہے۔جیسے:
لَعَلَّ الْمَطَرَ یَنْزِلُ
(شاید با رش ہو )اسے ''حرف ِ ترجی'' بھی کہتے ہیں ۔