۱۔ اِنَّ:(بے شک)
یہ مضمونِ جملہ(۱) کی تاکید اور اسے پختہ کرنے کے لیے لایاجاتاہے۔ جیسے:
(بے شک زید کھڑاہے) اسے'' حرفِ تاکید''بھی کہتے ہیں۔
۲۔ أَنَّ:(کہ، بے شک)
یہ جملے کو مفرد کی تاویل میں کرنے کے لیے لایاجاتاہے۔
عَلِمْتُ أَنَّ زَیْداً قَائِمٌ
(میں نے جان لیا کہ زید کھڑاہے)اسے ''موصولِ حرفی''بھی کہتے ہیں۔
فائدہ:
أَنَّ اپنے اسم وخبر سے ملکر چونکہ مفرد کی تاویل میں ہوتاہے اس لیے یہ ترکیب میں اپنے اسم وخبر سے ملکر کبھی فاعل، کبھی نائب الفاعل اور کبھی مفعول وغیرہ بنتاہے۔ جیسے:
بَلَغَنِیْ أَنَّ زَیْداً شَاعِرٌ
(مجھے (خبر)پہنچی ہے کہ زید شاعر ہے)
1۔۔۔۔۔۔کسی جملے کے مسند کے مصدرکو مسند الیہ کی طرف مضاف کر دینے سے جو معنی حاصل ہوتاہے اسے ''مضمون جملہ''کہتے ہیں ۔جیسے:زَیْدٌ قَائِمٌ کامضمون جملہ ہے قِیَامُ زَیْدٍ۔ اگر مسند اسم جامد ہو تو اس کا مصدر جعلی بنا کر اسے مسند الیہ کی طرف مضاف کردیں گے۔ جیسے:زَیْدٌ سِرَاجٌ کا مضمون جملہ ہے:سِرَاجِیَّۃُ زَیْدٍ (زیدکا چراغ ہونا)