۴۔ خبرایسا صیغہ ہوجوصرف مؤنث کے ساتھ خاص ہو۔ جیسے:اَلْمَرْأَۃُ طَالِقٌ۔
۵۔ خبرایسا صیغہ ہوجومذکر و مؤنث میں مشترک(یکساں مستعمل )ہو۔ جیسے:
اَلرَّجُلُ جَرِیْحٌ، اَلْاِمْرَأَۃُ جَرِیْحٌ۔
تقدیمِ مبتدأ کی وجوبی صورتیں:
درج ذیل صورتوں میں مبتدأ کوخبر پر مقدم کرنا واجب ہے:
۱۔ جب مبتدأ اور خبر دونوں معرفہ ہوں ۔جیسے:زَیْدُنِ الْمُنْطَلِقُ۔
۲۔ جب مبتدأ خبر دونوں نکرہ مخصوصہ ہوں۔جیسے:
غُلَامُ رَجُلٍ صَالِحٍ خَیْرٌ مِنْکَ۔
۳۔جب خبر جملہ فعلیہ ہو ۔جیسے:زَیْدٌ قَامَ أَبُوْہ،۔
۴۔جب مبتدأ ایسے کلمے پر مشتمل ہو جسے ابتداءِ کلام میں لانا واجب ہے(۱)۔جیسے:مَنْ أَبُوْکَ؟
(۱)…… وہ کلمات جن کو مقدم لانا واجب ہے درج ذیل ہیں:
۱۔اسمائے استفہام ۔جیسے:مَن أَبُوکَ؟
۲۔اسمائے شرط۔ جیسے:مَنْ جَاءَ فَھَوَ مُکْرَمٌ
۳۔جب اسم کسی ایسے لفظ کی طرف مضاف ہو جس کے لیے صدر کلام ضروری ہے ۔جیسے:غُلَامْ مَنْ قَامَ؟(کس کا غلام کھڑا ہوا؟)
۴۔وہ مبتداء جسے ایسی چیز کے درجے میں اتاردیا گیا ہو جس کے لیے صدر کلام ضروری ہو ۔ جیسے:اَلَّذِیْ یَأتِیْنِیْ فَلَہ دِرْھَمٌ۔ اس میں اسم موصول کو شرط کے درجے میں اتارا گیا ہے اور شرط کے لیے صدر کلام ضروری ہوتاہے ۔
۵۔ضمیر شان اورضمیر قصہ۔جیسے:ھُوَ اللہُ أَحَدٌ ھِیَ ھِنْدٌ عَاْلِمَۃٌ
۶۔ ما تعجبیہ۔ جیسے:مَاْ أَحْسَنَ زَیْداً
۷۔وہ مبتداء جس پر لام ابتدائیہ داخل ہو ۔جیسے:لَزَیْدٌ مُنْطَلِقٌ۔