| نصاب النحو |
اس کی حالتِ رفعی ضمہ سے اور حالت نصبی وجری کسرہ سے آتی ہے ۔ جیسے:
حالت رفعی حالت نصبی حالت جریھُنَّ مُسْلِمَاتٌ۔ رَأَیْتُ مُسْلِمَاتٍ۔ مَرَرْتُ بِمُسْلِمَاتٍ۔
۵۔غیرمنصرف:
وہ اسم جس کے آخر میں کسرہ اور تنوین نہیں آتے۔جیسے: عُمَرُ۔
اس کی حالت رفعی ضمہ سے اورحالت نصبی وجری فتحہ سے آتی ہے۔جیسے:
حالت رفعی حالت نصبی حالت جریجَاءَ عُمَرُ ۔ رَأَیْتُ عُمَرَ ۔ مَرَرْتُ بِعُمَرَ۔
۶۔اسماء ستہ :
اس سے مراد یہ چھ اسماء ہیں:أَبٌ، أَخٌ، فَمٌ، حَمٌ، ھَنٌ، اورذُوْ۔
اول الذکر پانچ اسماء اصل میں بالترتیب
أَبْوٌ، أَخْوٌ، فُوْہٌ،حَمْوٌ، اور ھَنْوٌ
تھے۔ ان کی حالت رفعی واؤسے ، حالت نصبی الف سے اور حالت جری یاء سے آتی ہے۔ جیسے:
حالت رفعی حالت نصبی حالت جریجَاءَ أَبُوْ زَیْدٍ۔ رَأَیْتُ أَبَا زَیْدٍ۔ مَرَرْتُ بِأَبِیْ زَیْدٍ۔
تنبیہ:
ان اسماء کا یہ اعراب اس وقت ہوتاہے جبکہ یہ مکبرہوں(ان کی تصغیر نہ کی گئی ہو)، موحدہوں(تثنیہ یا جمع نہ ہوں)اور یائے متکلم کے علاوہ کسی اور اسم کی طرف مضاف