Brailvi Books

نصاب النحو
243 - 268
ترجمہ کنزالایمان: '' جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے''۔

    ۲۔جب جملہ انشائیہ جزاء بن رہا ہو۔جیسے:
 ( وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَرُوْا)
ترجمہ کنز الایمان:''اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو ''۔

    ۳۔ جب فعل ماضی قَدْ کے ساتھ جزاء بن رہاہو ۔جیسے :
 (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ )
ترجمہ کنز الایمان: ''جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا''۔ 

    ۴۔ جب فعل مضارع منفی بغیر لا(۱) جزا ء بن رہا ہویا اس سے پہلے سین یا سَوْفَ آجائے ۔جیسے
 (وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہٗ)
ترجمہ کنزالایمان:''اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا''۔
 ( وَإِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ)
ترجمہ کنزالایمان:''اور اگر تمہاری محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے ''۔ 

جواز کی صورتیں:

    جب فعل مضارع''مثبت ''یا ''منفیِ بلا ''جزاء بن رہا ہو تو دونوں صورتیں جائز ہیں یعنی فائکو داخل کرنا اور نہ کرنا ۔(مضارع مثبت کی مثال)
اِنْ یَّضْرِبْ فَأَضْرِبْ
اور أَضْرِبْ۔ (مضارع منفی بلا کی مثال)
اِنْ یَّضْرِبْ فَلاَ أَضْرِبْ
اور لاَ أَضْرِبْ بھی جائز ہے۔

عدم جواز کی صورتیں:

    ۱۔ جب ماضی بغیر قَدْ کے جزاء بن رہاہو۔ جیسے
اِنْ کَلَّمْتَنِی کَلَّمْتُکَ
(اگر تومجھ سے بات کریگا تو میں بھی تجھ سے بات کروں گا )
1 ۔۔۔۔۔۔ یعنی فعل مضارع پر لا کے علاوہ کوئی اور حرف نفی داخل ہو۔جیسے ما اور لن۔
Flag Counter