Brailvi Books

نصاب النحو
242 - 268
سبق نمبر: 63 

      (۔۔۔۔۔۔ شرط وجزاء کابیان۔۔۔۔۔۔)
    شرط وجزاء کے اندر دوجملے ہوتے ہیں جن میں سے پہلا ہمیشہ فعلیہ ہوتا ہے اوردوسرا کبھی فعلیہ اورکبھی اسمیہ ،شرط وجزاء کے باب میں دو امور کا جاننابہت ضروری ہے۔ 

۱۔ شرط وجزاء کے اعراب ۲۔ جزاء پر فاء کے لانے یا نہ لانے کی صورتیں ۔

۱۔شرط وجزاء کے اعراب:

    ۱۔ جب شرط وجزاء دونوں فعل مضارع ہوں تو دونوں پر جزم واجب ہے۔ جیسے
اِنْ ُتکرْمْنِی أُکْرِمْکَ
 (اگر تومیری تعظیم کریگا تو میں بھی تیری تعظیم کروں گا) ۔      

    ۲۔اور اگر صرف شرط مضارع ہو تو شرط پر جزم واجب ہے جیسے اِنْ تَعْمَلْ عَمِلْتُ (اگر تو کریگا تو میں کروں گا) ۔

    ۳۔ اور اگر شرط فعل ماضی اور جزاء فعل مضارع ہو تو فعل مضارع پر جزم اور رفع دونوں جائز ہیں۔ جیسے
اِنْ عَمِلْتَ أَعْمَلُ
یا
اَعْمَلْ
 (اگر تو کرے گا تو میں کروں گا) ۔

جزاء پر فا ء کے لانے یا نہ لانے کی صورتیں

    جزاء پر بعض صورتوں میں فاء کا لانا واجب ، بعض صورتوں میں جائز اور بعض صورتوں میں ناجائز ہے۔ پہلے ہم وجوب کی صورتیں ذکر کرتے ہیں۔ 

وجوب کی صورتیں:

   ۱۔جب جزاء جملہ اسمیہ ہو جیسے :
( وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ  )
Flag Counter