| نصاب النحو |
کلمات استفہام کی تعریف:
استفہام کے لغوی معنی سوال کرنا ،پوچھنا ہے،جبکہ اصطلاح میں کلمات استفہام سے مراد وہ کلمات ہیں جن کے ذریعے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے۔ کلمات استفہام دو قسموں پر ہیں۔
۱۔حروف استفہام ۲۔اسمائے استفہام
ز۔۔۔۔۔۔۱۔حروف استفہام:
حروف استفہام دو ہیں ۔ ۱۔ '' أ '' ۲۔ ''ھل''
۱۔: ہمزہ (أ)
ہمزہ کبھی استفہام کیلئے آتا ہے اور کبھی استفہام انکاری (۱)کیلئے ۔ استفہام کی مثال أَ أَنْتَ یُوْسُفُ؟ استفہام انکاری کی مثال ۔اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا ۔
۲۔ھل:
دوسر ا حرف استفہام ھل ہے اسکی مثالھَلْ عِنْدَکَ کِتَابٌ؟
ترکیب:
ھَلْ عِنْدَ کَ کِتَابٌ؟
1۔۔۔۔۔۔وہ ہمزہ جو استفہام انکاری کیلئے آتا ہے۔ اگر اس ہمزہ کے بعد فعل مثبت ہو تو یہ ہمزہ نفی کا معنی دیتاہے۔ جیسے مذکورہ بالا مثال ۔