Brailvi Books

نصاب النحو
186 - 268
سے جزاء نہیں پائی جارہی انکے بعدوالااسم ہمیشہ مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔اور اس کی خبر وجوبا محذوف ہوگی ، اس کا جواب اگر ماضی ہو تو اس پر لام کا داخل کرناجائز ہے ورنہ نہیں۔ جیسے
لَوْلاَ الأُسْتَاذُ مَافَھِمْتُ الدَّرْسَ
(اگر استاذ نہ ہوتاتو میں سبق نہ سمجھتا) اس مثال میں الأُسْتَاذُ کے بعد مَوْجُوْدٌ خبر محذوف ہے۔
لَوْمَا الْقِصَاصُ لَعَمَّتْ اِرَاقَۃُ الدِّمَاءِ،
(اگر قصاص نہ ہوتا تو خون بہانا عام ہو جاتا) اس مثال میں  القصاص کے بعد مَوْجُوْدٌ خبرمحذوف ہے۔ 

٭۔۔۔۔۔۔کلما:

    یہ معنی کے تکرار کا فائدہ دیتاہے اس کے بعد ہمیشہ فعل ماضی ہوتا ہے اوریہ ظرف زمان ہے۔ جیسے
کُلَّمَا أَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَھَا اللّٰہُ
(جب جب ان لوگوں نے جنگ کی آگ بھڑکا ئی اللہ عزوجل نے اسے بجھا دیا) ۔

٭۔۔۔۔۔۔اذا:

    یہ بھی ظرف زمان ہے اور یہ مستقبل کیلئے آتا ہے اور اس کے بعد فعل کا آنا ضروری ہے۔ چاہے لفظا ہو یا تقدیرا۔ جیسے
اِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنَ
 (اور جب میں بیمار ہو جاتاہوں تو وہ مجھے شفاء دیتاہے)۔

٭۔۔۔۔۔۔لما:

    یہ ظرف زمان ماضی کیلئے آتاہے۔ اور اس کے ساتھ ہمیشہ فعل ماضی آتاہے۔ جیسے
لَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ ظَھَرَ الْحَقُّ
(جب قرآن نازل ہوا تو حق ظاہر ہو گیا) ۔
Flag Counter