(اگر قصاص نہ ہوتا تو خون بہانا عام ہو جاتا) اس مثال میں القصاص کے بعد مَوْجُوْدٌ خبرمحذوف ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔کلما:
یہ معنی کے تکرار کا فائدہ دیتاہے اس کے بعد ہمیشہ فعل ماضی ہوتا ہے اوریہ ظرف زمان ہے۔ جیسے
کُلَّمَا أَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَھَا اللّٰہُ
(جب جب ان لوگوں نے جنگ کی آگ بھڑکا ئی اللہ عزوجل نے اسے بجھا دیا) ۔
٭۔۔۔۔۔۔اذا:
یہ بھی ظرف زمان ہے اور یہ مستقبل کیلئے آتا ہے اور اس کے بعد فعل کا آنا ضروری ہے۔ چاہے لفظا ہو یا تقدیرا۔ جیسے
اِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنَ
(اور جب میں بیمار ہو جاتاہوں تو وہ مجھے شفاء دیتاہے)۔
٭۔۔۔۔۔۔لما:
یہ ظرف زمان ماضی کیلئے آتاہے۔ اور اس کے ساتھ ہمیشہ فعل ماضی آتاہے۔ جیسے
لَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ ظَھَرَ الْحَقُّ
(جب قرآن نازل ہوا تو حق ظاہر ہو گیا) ۔