Brailvi Books

نصاب النحو
176 - 268
سبق نمبر: 49

     (۔۔۔۔۔۔ اسماء اعدادکا بیان۔۔۔۔۔۔)
اسمائے اعداد کی تعریف:

    وہ اسماء جن کے ذریعے کسی شے کے افراد کو شمار کیا جائے ان اسماء کو اسماء اعداد کہتے ہیں ، جسے شمار کیا جائے اس کو معدود اورتمییز کہتے ہیں ۔ جیسے ،
خَمْسَۃُ أَقْلامٍ ثَلاَ ثَۃُ أَنْھَارٍ
مذکورہ مثالوں میں ثَلاَ ثَۃُ اور خَمْسَۃُ اسم عدد اور أَقْلامٍ و أَنْھَارٍ معدود ہیں ۔تمام اعداد کی اصل بارہ کلمات ہیں۔ ایک سے دس تک کے اعداد اور مئۃ اورالف کو مفرد کہتے ہیں یعنی اکائیاں جیسے
أَحَدٌ، اِثْنَانِ، ثَلاَثٌ ، مِأَۃٌ ،أَلْفٌ
وغیرہ ۔ گیارہ سے انیس تک کے اعداد کو مرکب کہتے ہیں۔جیسے
أَحَدَ عَشَرَ ،اِثْنَا عَشَرَ ،
وغیرہ اکیس سے لے کر ننانوے تک کے اعداد کی اکائیوں اور دہائیوں کے درمیان حرف عطف ذکر کیا جاتا ہے۔ اس لئے ان اعداد کوعطف کہاجاتاہے۔ جیسے
أَحَدٌ وَّ عِشْرُوْنَ ،اِثْنَانِ وَعِشْرُوْنَ عَشْرَۃٌ، عِشْرُوْنَ، ثَلاَ ثُوْنَ ،أَرْبَعُوْنَ، خَمْسُوْنَ، سِتُّوْنَ ، سَبْعُوْنَ، ثَمَانُوْنَ تِسْعُوْنَ
کو دھائیاں کہتے ہیں۔ 

اِن کے استعمال کا طریقہ :

    وَاحِدٌ اور اِثْنَانِ صفت بن کر استعمال ہوتے ہیں اور انکا استعمال قیا س کے مطابق ہوتاہے۔ یعنی اگر موصوف مذکر ہے تو اسکے لئے عدد بھی مذکر لایاجائے گا۔ اور اگرموصوف مونث ہے تو عدد بھی مونث ہی لایا جائے گا،اور واحد ہے تو واحد اورتثنیہ ہے تو تثنیہ ۔
Flag Counter