Brailvi Books

نصاب النحو
174 - 268
ہیں توایسی صورت میں رفع واجب ہے جیسے
دَخَلْتُ الْبُسْتَانَ فَاِذَا الأَعْدَاءُ أَشَاھِدُھُمْ
 (میں باغ میں داخل ہو اتو اچانک میں نے دشمنوں کو دیکھا) ۔

    اس مثال میں
اِذَا فجائیہ ،أَلأَعْدَاءُ مشغول عنہ سے پہلے آگیا یہ حرف اسموں پرہی داخل ہوتا ہے۔ لہذا اس صورت میں رفع واجب ہے۔ یہ رفع مشغول عنہ کے مبتداء بننے کی وجہ سے واجب ہے۔ اسی طرح
لَیْتَمَاالْعِلْمُ حَصَلْتُہ،،
ا س میں بھی أَلْعِلْمُ پر رفع واجب ہے۔ 

۲۔نصب واجب:

        جب مشغول عنہ سے پہلے ایسے حروف آجائیں جوصرف افعال ہی پر داخل ہوتے ہیں تو اس صورت میں نصب واجب ہے۔ مثلا کلمات شرط
اِنْ، لَوْ، حَیْثُمَا، مَتٰی
وغیرہ جیسے
اِنَّ الْبُسْتَانَ دَخَلْتَہ، فَلا تَقْطَفِ الازھارَ ۔
حروف تحضیض
ھَلاَّ ، أَلاَّ ،لَوْلاَ
جیسے:۔
ھَلاَّ ضَعِیْفًا نَصَرْتَہ،
(تو نے کمزورکی مدد کیوں نہیں کی) ۔

نوٹ :

    اگر ہمزہ کے علاوہ حروف استفہام آجائے تو پھر بھی نصب واجب ہے۔ جیسے
أینَ الکتابَ وضعتَہ۔
۳۔رفع و نصب دونوں جائز:
        جہاں مذکورہ بالا دونوں صورتیں نہ پائی جائیں وہا ں رفع پڑھنا بھی جائز ہے جیسے محمودٌ دعوتُہ اس صورت میں اسے مبتداء مان لیں گے اور نصب بھی پڑھ سکتے ہیں۔جیسے مَحْمُوْداً دَعَوْتُہ اس صورت میں مشغول عنہ سے پہلے فعل محذوف مان لیں۔
Flag Counter