لَیْتَمَاالْعِلْمُ حَصَلْتُہ،،
ا س میں بھی أَلْعِلْمُ پر رفع واجب ہے۔
۲۔نصب واجب:
جب مشغول عنہ سے پہلے ایسے حروف آجائیں جوصرف افعال ہی پر داخل ہوتے ہیں تو اس صورت میں نصب واجب ہے۔ مثلا کلمات شرط
اِنْ، لَوْ، حَیْثُمَا، مَتٰی
اِنَّ الْبُسْتَانَ دَخَلْتَہ، فَلا تَقْطَفِ الازھارَ ۔
ھَلاَّ ضَعِیْفًا نَصَرْتَہ،
(تو نے کمزورکی مدد کیوں نہیں کی) ۔
نوٹ :
اگر ہمزہ کے علاوہ حروف استفہام آجائے تو پھر بھی نصب واجب ہے۔ جیسے
جہاں مذکورہ بالا دونوں صورتیں نہ پائی جائیں وہا ں رفع پڑھنا بھی جائز ہے جیسے محمودٌ دعوتُہ اس صورت میں اسے مبتداء مان لیں گے اور نصب بھی پڑھ سکتے ہیں۔جیسے مَحْمُوْداً دَعَوْتُہ اس صورت میں مشغول عنہ سے پہلے فعل محذوف مان لیں۔