Brailvi Books

نصاب النحو
173 - 268
سبق نمبر: 48

      (۔۔۔۔۔۔ اشتغال ومشغول عنہ کابیان۔۔۔۔۔۔)
اشتغال کی تعریف:

    اشتغال کا لغوی معنی فارغ ہونا ،مصروف ہونا،مشغول ہونا ہے،جبکہ اصطلاح میں جب کسی اسم کے بعد کوئی فعل یاشبہہ فعل ہواور یہ فعل یا شبہہ فعل اپنے مابعد ضمیریااس سے متصل اسم میں اسطرح عمل کررہا ہو کہ اگراسکے مابعد معمول کوحذف کردیا جا ئے تویہ (فعل یا شبہہ فعل) ماقبل اسم کو نصب دے اس عمل کو نحویوں کی اصطلاح میں اشتغال کہتے ہیں ، اور فعل یاشبہ فعل سے ماقبل آنیوالے اسم کو مشغول عنہ کہتے ہیں ۔ جیسے
زَیْدًا ضَرَبْتُہ،،
 (میں نے زید کو مارا)
زَیْدًا ضَرَبْتُ أَخَاہ،
 (میں نے زید کے بھائی کو مارا) ان مثالوں میں زَیْدًا مشغول عنہ ہے۔ اور اسکے مابعد فعل بھی ہے جو ضمیر یا اس سے متصل اسم میں اس طر ح عمل کررہا ہے کہ اگراسکے مابعد معمول کوحذف کردیا جا ئے تویہ ماقبل اسم کو نصب دیگا۔ اصل عبارت اس طرح تھی
ضَرْبَتُ زَیْدًا ضَرَبْتُہ،
اور
ضَرَبْتُ زَیْدًا ضَرَبْتُ أَخَاہ،
پھر زَیْدًا سے پہلے ضربت کو حذف کر دیاگیا، کیونکہ مابعد فعل اس کی تفسیر بیان کررہاہے۔ اسے
اضمار علی شریطۃ التفسیر
بھی کہتے ہیں، یہاں پہلے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ مشغول عنہ کے اعراب کی مختلف صورتیں ہیں کبھی رفع واجب کبھی نصب واجب اور کبھی دونوں جائز۔ 

۱۔رفع واجب:

    جب اسم مشغول عنہ سے پہلے ایسے حروف آجائیں جو حروف اسماء ہی پر داخل ہوتے
Flag Counter