Brailvi Books

نصاب النحو
161 - 268
دیتی ہے۔ جیسے غُلاَمُ رَجُلٍ
اضافت کے چند ضروری قواعد:
    ٭۔۔۔۔۔۔مضاف پر الف لام نہیں آتا لیکن چونکہ اضافت لفظیہ تعریف کا فائدہ نہیں دیتی اس لئے اس اضافت میں مضاف پر الف لام کا دخول جائز ہے۔اسکی چند صورتیں درج ذیل ہیں۔ 

    ۱۔جب مضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم کا صیغہ ہو۔جیسے
اَلضَّارِبَ ا غُلاَمٍ
اور
اَلضَّارِبُ وْ غُلاَمٍ۔
    ۲۔جب مضاف الیہ معرف باللام ہو جیسے اَلضَّارِبُ الْغُلاَمِ۔

    ۳۔ جب مضاف الیہ ایسے اسم کی طرف مضاف ہو جو معرف باللام ہو ۔جیسے
اَلضَّارِبُ غُلاَمِ الرَّجُلِ ،
یہاں ألضَّارِبُ پر اس لئے الف لام کا دخول جائز ہے کیونکہ اسکا مضاف الیہ غُلاَمِ معرف باللام اَلرَّجُلِ کی طرف مضاف ہے۔ 

    ٭۔۔۔۔۔۔جب اسم مفرد صحیح یا جاری مجریٰ صحیح کی اضافت یائے متکلم کیطرف کی جائے تو ی پر جزم اورفتحہ دونوں پڑھ سکتے ہیں ۔جیسے
کِتَابِیْ ،کِتَابِیَ
اور
دَلْوِیْ ،دَلْوِیَ ،
اور ایسا لفظ اگر جملے کے آخر میں واقع ہو تو اسکے ساتھ ہ بھی بڑھا دیناجائز ہے۔ جیسے کِتَابِیَہ (میر ی کتاب) حِسَابیَہ ( میرا حساب)۔

    ٭۔۔۔۔۔۔اگر یائے متکلم کیطرف اسم مقصور یا منقوص یا تثنیہ یاجمع مذکر سالم کی اضافت کی جائے تو اسوقت ی پر فتحہ ہی پڑھا جائے گا،جیسے عَصَایَ ، قَاضِیَ اور مُسْلِمِیَّ۔

    ٭۔۔۔۔۔۔جب اسمائے ستہ مکبرہ کی اضافت یائے متکلم کی طرف کی جائے تومحذوف
Flag Counter