| نصاب النحو |
۲۔مجہول:
وہ فعل جس کا فاعل معلوم نہ ہو یعنی فعل کی نسبت مفعول کی طرف کی گئی ہو۔ جیسے ضُرِبَ تِلْمِیْذٌ (شاگرد کو مارا گیا)۔
ضروری وضاحت:
فعل مجہول فعل لازم سے نہیں بنتا اس لئے کہ فعل مجہول میں فعل کی نسبت مفعول کی طرف ہوتی ہے اور فعل لازم کا مفعول آتا ہی نہیں ۔البتہ اگر فعل لازم سے فعل مجہول بنانا ہوتو فعل کو مجہول ذکر کر کے اس کے بعد ایسا اسم ذکر کر دیا جاتاہے۔ جس پر حرف جرباء داخل ہو ۔جیسے کُرِمَ بِزَیْدٍ۔
فائدہ:
جَاءَ اور دَخَلَ اگرچہ لازم ہیں مگر متعدی کی طرح بھی استعمال ہوتے ہیں۔
جیسے:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ ،دَخَلَ زَیْدُن الْمَسْجِدَ۔