۳۔مقام دعا میں حرف نداء یَا کو گرا کر اسم جلالت کے آخر میں میم مشدد کا اضافہ کیا جاتا ہے ۔ جیسے
أَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا۔
۴۔کبھی منادٰی کو حذف کردیاجاتاہے جب کہ قرینہ پایا جائے ۔ جیسے اَلا یَا اسْجُدُوْا یہاں لفظ قَوْمُ منادٰی محذوف ہے اور قرینہ حرف نداء کا فعل پر داخل ہونا ہے۔
۴۔کبھی کبھی حرف نداء کو بھی حذف کردیا جاتا ہے جیسے
یُوْسُفُ أَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا
یَا یُوْ سُفُ أَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا أَیُّھَا النَّبِیُّ
تھا۔
۵۔ اگر منادی غُلامٌ،رَبٌ، أُمٌّ وغیرہ الفاظ ہوں اوریہ یائے متکلم کی طرف مضاف بھی ہوں تو انکو چار طریقوں سے پڑھ سکتے ہیں ۔
یَا غُلاَ مِیْ ،یَا غُلاَمِیٰ ، یَاغُلاَمِ ، یَاغُلاَمَا
یَا رَبِّیْ ،یَا رَبِّیَ، یَا رَبِّ ، یَا رَبَا،
اسی طرح مذکورہ دیگر الفاظ بھی۔
۶۔اگر منادی مفرد معرفہ ہو اور اسکے بعداِبْنٌ یا بِنْتٌ کالفظ آجائے تو منادی اِبْنٌ اور بِنْتٌ سمیت منصوب جبکہ بعد والا علم مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہوگا۔ جیسے
یَا عَلِیَّ ابْنَ أَبِیْ طَالِبٍ اور یَا فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
یَا حرف نداء قائم مقام أَدْعُوْفعل کے أدْعُوْ فعل اس میں أَنَا ضمیر فاعل ،غُلاَ مَ مضاف اور زَیْدٍ مضاف ،مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر منادٰی قائم مقام مفعول بہ ہوا ،أَدْعُوْ فعل