Brailvi Books

نصاب النحو
127 - 268
ہوگا۔ جیسے یَا زَیْدُ۔

۲۔نکرہ معینہ:

    یعنی جب نکرہ معین ہو ۔تو اس صورت میں بھی مرفوع ہوگا ۔جیسے یَا رَجُلُ۔

۳۔نکرہ غیر معینہ:

    یعنی جب منادیٰ نکرہ غیر معین ہوگاتو اس صورت میں منصوب ہوگا۔ جیسے کسی اندھے کا کہنا یَا رَجُلاً خُذْ بِیَدِیْ (اے کوئی آدمی میرا ہاتھ پکڑ )۔

۴۔مضاف:

    یعنی جب منادٰی مضاف ہو تو اس صورت میں بھی منصوب ہوگا۔ جیسے یَا سَیِّدَ الْبَشَرْ۔

۵۔مشابہ مضاف:

    یعنی وہ اسم جو مضاف تو نہ ہو لیکن مضاف کی طرح دوسرے اسم سے ملے بغیر مکمل نہ ہو اور اپنے ما بعد میں عامل ہو تو اس صورت میں بھی منصوب ہوگا جیسے یَا طَالِعًا جَبَلاً (اے پہاڑ پر چڑھنے والے )۔

تنبیہ:

    حروف نداء أَدْعُوْفعل کے قائم مقام ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ منادیٰ أَدْعُوْ فعل محذوف کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے محلا ہمیشہ منصوب ہوتا ہے اگرچہ بعض اوقات لفظا مرفوع ہوتا ہے ۔جیسے َیا زَیْدُ یعنی أَدْعُوْ زَیْدًا۔

حروف نداء کے چند ضروری قواعد:

    ۱۔اسم جلالت پر حرف یا ء داخل ہوتا ہے جیسے یَا اَللہُ۔