Brailvi Books

نصاب النحو
121 - 268
پائے جاتے ہیں ۔ جبکہ اسم فاعل میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس میں معنی مصدری حدوثی طور پر پائے جاتے ہیں ۔ جیسے عَلِیْمٌ (ہمیشہ جاننے والا) اور عَالِمٌ (جاننے والا)۔

    ٭۔۔۔۔۔۔صفت مشبہ کے صیغے مختلف اوزان پر آتے ہیں ۔ اور سب سماعی ہیں صرف چند قیاسی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں ۔ 

    ۱۔ جو رنگ، عیب یا حلیے پردلالت کریں ان سے صفت مشبہ واحد مذکر أَفْعَلُ اور واحد مونث فَعْلاَءُ کے وزن پر آتاہے۔ اور دونوں کی جمع فُعُلٌ کے وزن پرآتی ہے ۔جیسے
أَحْمَرُ، حَمْرَاءُ ،
اور جمع حُمُرٌ ۔

    ۲۔ اہل حرفہ یعنی پیشہ ور لوگوں کیلئے زیادہ تر فَعَّالٌ کاوزن استعمال کیا جاتا ہے ،جیسے
خَیَّاطٌ ، نَجَّارٌ ،خَبَّازٌ ، حَجَّامٌ، بَزَّارٌ،
اورکبھی اسم جامد سے بھی یہ وزن بنا لیتے ہیں ، بَقْلَۃٌ (ساگ)سے بَقَّالٌ ،جَمَلٌ سے جَمَّالٌ ۔

    ٭۔۔۔۔۔۔جب صفت مشبہہ کامعمول مرفوع ہو تو اس میں ضمیر نہیں ہوتی کیونکہ اس وقت اسکا معمول اسکا فاعل ہوتا ہے ۔ لہذا صفت کا صیغہ اس صورت میں ہمیشہ واحد آئے گا، خواہ معمول واحد ہو یا تثنیہ یا جمع اور اگر معمول منصوب یا مجرور ہو تو صفت میں ضمیر ہو گی جو موصوف کی طرف راجع اور اسکا فاعل ہوگی نیز یہ ضمیر تذکیر وتانیث اور تثنیہ وجمع میں موصوف کے مطابق ہو گی۔ 

ترکیب:
جَاءَ زَیْدٌ کَرِیمٌ أَبُوْہ،
    جَاءَ فعل زَیْدٌ ذوالحال کَرِیْمٌ صفت مشبہ أَبُ مضاف ہ، ضمیر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ سے ملکر کَرِیْمٌ صفت مشبہ کا فاعل صفت مشبہ اپنے فاعل سے ملکرشبہ جملہ ہو کر حال، حال ذوالحال سے ملکر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ۔
Flag Counter