Brailvi Books

نصاب النحو
119 - 268
سبق نمبر: 33

       (۔۔۔۔۔۔صفت مشبہ کا بیان۔۔۔۔۔۔)
صفت مشبہ کی تعریف:

    صفت مشبہ وہ اسم مشتق ہے جو اس ذا ت پر دلالت کرے جو دائمی طور پر مصدری معنی سے موصوف ہو۔ جیسے کَرِیْمٌ (کرم کرنے والا ) ۔ ثلاثی مجرد سے اس کے چار اوزان مشہور اور کثیر الاستعمال ہیں۔
        ۱۔أَفْعَلُ ۲۔ فَعْلاَنُ ۳۔فَعْلٌ ۴۔ فَعِیْلٌ۔
اسکے عمل(۱)کی شرائط: 

    اسکے عمل کے لئے ضروری ہے کہ یہ، مبتدا ،موصوف ، ذوالحال،حرف نفی يا استفہام میں سے کسی ایک کے بعد آئے۔ مبتدا کے بعد جیسے اَلْوَلَدُ حَسَنٌ (لڑکا خوبصورت ہے) موصوف کے بعد جیسے
جَاءَ رَجُلٌ حَسَنٌ وَجْھُہ،
 (وہ آدمی آیا جس کا چہرہ خوبصورت ہے) ذوالحال کے بعد جیسے
جَاءَ نِیْ زَیْدٌاَحْمَرَ وَجْھُہ،
 (میرے پاس زید اس حال میں آیا کہ اس کا چہرہ سرخ تھا) حرف نفی کے بعد جیسے
مَا حَسَنٌ زَیْدٌ
 (زید خوبصورت نہیں ہے) استفہام کے بعد جیسے
أَحَسَنٌ کِتَابُکَ؟
 ( کیا تمہاری کتاب خوبصورت ہے؟)
اسکے استعمال کی صورتیں:
     صفت مشبہ کا صیغہ دو طریقوں سے استعمال ہوتا ہے ۔ 

    ۱۔معرف باللا م جیسے
زَیْدُنِ الْحَسَنُ الْوَجْہِ۔
1۔۔۔۔۔۔صفت مشبہ عمل میں اپنے فعل مشتق منہ کی طرح ہے۔
Flag Counter