مَاخَلاَ ، مَاعَدَا ،لَیْسَ يا لاَ یَکُوْنُ
جَاءَ الْقَوْمُ مَاخَلاَ زَیْدًا۔
۵۔ جب مستثنی خَلاَ او ر عَدَا کے بعدواقع ہوتواکثر علماء کے مذہب پر منصوب ہو گا۔ جیسے
جَاءَ الْقَوْمُ عَدَا زَیْدًا۔
۲۔منصوب يا ماقبل کے مطابق:
جب مستثنی کلام غیر موجب میں اِلاَّ کے بعد واقع ہواور مستثنی منہ مذکور اور مقدم ہوتو دوطرح سے پڑھنا درست ہے منصوب اورماقبل کے مطابق ،جیسے
مَااَثْمَرَتِ الأَشْجَارُ اِلاَّ شَجَرَۃً ،شَجَرَۃٌ
(درخت پھل نہیں لائے سوائے ایک درخت کے) ۔
۳۔عامل کے مطابق :
جب مستثنی مفرغ ہو( یعنی مستثنی منہ مذکور نہ ہو) اورکلام غیرموجب میں واقع ہو تو اس صورت میں اس کا اعراب عامل کے مطابق ہوگا۔جیسے
مَاجَاءَ نِیْ اِلاَّ زَیْدٌ۔
۴۔مجرور:
جب مستثنی لفظ غَیْرَ، سِوٰی، سواءَ کے بعد واقع ہو تومستثنی کو مجرور پڑھیں گے۔ اور اکثر نحویوں کے نزدیک حَاشَاکے بعد بھی مجرور پڑھیں گے۔ جیسے
جَاءَ نِیَ الْقَوْمُ غَیْرَ زَیْدٍ، جَاءَ نِیَ الْقَوْمُ سِوٰی زَیْدٍ، جَاءَ نِیَ الْقَوْمُ سوَاءَ زَیْدٍ، جَاءَ نِیَ الْقَوْمُ حَاشَا زَیْدٍ۔