Brailvi Books

نصاب النحو
113 - 268
    ۸۔ اگر حال مضارع ہو اور مثبت ہوتو اس میں صرف ضمیر کافی ہے۔ جیسے ذَھَبَ السَّارِقُ یَرْکَبُ (چور گیا اس حال میں کہ وہ سوار تھا) 

    ۹۔ کبھی کبھی حال کا عامل حذف کردیا جاتا ہے۔جیسے رَاشِدًا مَھْدِیًّا اصل میں سِرْ رَاشِدًا مَھْدِیًّا تھا پھر حال کے عامل سِرْکو حذف کردیا گیا۔ 

    ۱۰۔ اگر حال مفرد ہو تو واحد ،تثنیہ اورجمع اور تذکیر وتانیث میں ذوالحال سے مطابقت ضروری ہے۔ جیسے
جَاءَ زَیْدٌ رَاکِبًا ،جَاءَ الرجلَانِ رَاکِبَیْنِ، جَاءَ تِ الْمَرْأَتَانِ رَاکِبَتَیْنِ
    ۱۱۔ اگرجملہ خبریہ درمیان کلام یا آخر کلام میں معرفہ کے بعد واقع ہو تو وہ حال واقع ہوگا۔ جیسے
رَجَعَ الْقَائِدُ ھُوَ مَنْصُوْرٌ
 (قائد لوٹا اس حال ميں کہ وہ کامیاب تھا )۔

    ۱۲۔ مِنْ بیانیہ سے پہلے کوئی اسم معرفہ ہوتو وہ ذوالحال اور من بیانیہ اپنے مدخول سے مل کر حال بنے گا۔ جیسے
فَاجْتَنِبُواالرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ ۔
اس مثال میں أَلرِّجْسَ ذوالحال اور مِنْ الأَوْثَانِ حال ہے۔ 

    ۱۳۔ وَحْدَہٗ ،کا لفظ جہاں بھی آئے گا حال ہی بنے گا۔جیسے
نَعْبُدُ اللہَ وَحْدَہٗ۔
Flag Counter