Brailvi Books

نصاب النحو
112 - 268
معرفہ ہے لیکن یہ مُنْفَرِدًا کی تاویل میں ہے۔ اور مُنْفَرِدًا نکرہ ہے۔

    ۳۔ اگر ذوالحال نکرہ ہو تو حال کو اس پر مقدم کریں گے۔ جیسے
جَاءَ نِیْ رَاکِبًا رَجُلٌ
اس مثال میں رَاکِبًا رَجُلٌ کا حال واقع ہو رہا ہے۔ اوررَجُلٌ کیونکہ نکرہ ہے۔ اس لئےرَاکِبًا حال کو ذوالحال پر مقدم کیا گیا۔

    ۴۔ حال عموما اسم مشتق ہوتاہے لیکن کبھی اسم جامد بھی حال واقع ہوتاہے۔ جیسے
کَرَّعَلِیٌّ أَسَدًا ۔
(علی نے شیر کی طرح حملہ کیا) اس مثال میں أَسَدًا حال واقع ہو رہا ہے جوکہ اسم جامد ہے۔ 

    ۵۔ کبھی جملہ خبریہ بھی حال واقع ہوتاہے۔ جیسے
رَأَیْتُ الأَمِیْرَ وَ ھُوَ رَاکِبٌ
 (میں نے امیر کو سواری کی حالت میں دیکھا)۔

    ۶۔ جب جملہ حال بن رہا ہوتو اس صورت میں حال اور ذوالحال کے درمیان تعلق پیدا کرنے کیلئے ایک رابطے کا ہونا ضروری ہے اور یہ رابطہ واؤ یا ضمیر یا دونوں ہوسکتے ہیں ۔ جیسے
لاَ تَضْرِبِ الرَّجُلَ وَ ھُوَ مَظْلُوْمٌ
 ( آدمی کو نہ مار اس حال میں کہ وہ مظلوم ہے )اس مثال میں تعلق کیلئے واؤ اور ضمير دونوں موجود ہیں ۔ اور
کُنْتُ نَبِیًّا وَّآدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَ الطِّیْنِ
 (ميں نبی تھا اس حال ميں کہ آدم پانی اور مٹی کے درميان تھے) اس مثال میں تعلق پیدا کرنے کیلئے واؤ موجود ہے۔
ضَرَبْتُ زَیْدًا ھُوَ قَائِمٌ
اس میں ھُوَ تعلق پیدا کرنے کیلئے موجود ہے۔

    ۷۔ حال کبھی جملہ فعلیہ ہوتاہے اورکبھی جملہ اسمیہ۔ اگر حال جملہ فعلیہ ہو اور ماضی ہو تو اس سے پہلے قَدْ کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے
جَاءَ الْمُصَلِّی وَقَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ
 (نمازی آیا اس حال میں کہ جماعت کھڑی ہو چکی تھی)۔
Flag Counter