ضَرَبْتُہ، تَادِیْبًا
(میں نے اسے ادب سکھانے کے لیے مارا)اس مثال میں تَادِیْبًا مفعول لہ ہے جو فعلِ ضرب کے واقع ہونے کاسبب بنا۔
مفعول لہ کے چند ضروری قواعد:
۱۔مفعول لہ کو مَفْعُوْل لِأَجْلِہٖ بھی کہتے ہیں۔
۲۔مفعول لہ کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ ایسا مصدر ہوتاہے جو ماقبل فعل کے متعلق سوال کا جواب ہوتاہے۔ جیسے جب یہ کہاجائے ضَرَبْتُہ، (میں نے اسے مارا)تو اگر سوال کیاجائےلِمَاذَا ضَرَبْتَ؟
کہ (تو نے کیوں مارا؟) تو جواب میں تَادِیْبًا کہیں گے۔
۳۔ مفعول لہ منصوب اسی صور ت میں ہوگا جب مصدرہو گا۔ اگر مصدر نہیں ہو گا تو منصوب بھی نہیں ہوگا، جیسےوَالْأَرْضَ وَضَعَھَا لِلْأَنَامِ
(اللہ نے زمین کو مخلوق کے لئے بنایا)۔اس مثال میں''للانام'' مصدر نہ ہونے کی وجہ سے منصوب نہیں ہے۔
۴۔مفعول لہ کے منصوب ہونے کیلئے ضروری ہے کہ فعل اور مفعول کا زمانہ ایک ہو نیز دونوں کا فاعل بھی ایک ہی ہو۔اگرایسا نہ ہوتو مفعول لہ منصوب نہیں ہوگا۔ جیسےاَکْرَمْتُکَ الْیَوْمَ لِوَعْدِیْ بِذٰلِکَ أَمْسِ۔
(میں نے آج آپ کی عزت کی کیونکہ کل میں نے اس کا وعدہ کیا تھا) اس مثال میں فعل کازمانہ آج ہے اور مفعول (لوعدی