(میں نے اللہ عزوجل کی پاکی بیان کی)۔
۲۔مَعَاذَ اللہِ۔
یعنی :
عُذْتُ مَعَاذَ اللہِ
(میں اللہ عزوجل کی پناہ میں آیا)۔
۳۔ أَیْضاً
یعنی
اٰضَ أَیْضاً
(وہ لوٹا بھی)۔
۴۔أَلْبَتَّۃَ
یعنی
بَتَّ أَلْبَتَّۃَ
(اس نے پختہ کیا)۔
۵۔ مَثَلاً
یعنی
مَثَلْتُ مَثَلاً
(میں نے مثال بیان کی )۔
۶۔ یَقِیْناً
یعنی
تَیَقَّنْتُ یَقِیْناً
(میں نے یقین کیا) ۔
تنبیہ:
کبھی مفعول مطلق محذوف ہوتاہے، اوراس کی صفت وغیرہ اس کے نائب کے طور پر ذکر کی جاتی ہے ۔ جیسے:(أُذْکُرُوْا اللّٰہَ کَثِیْرًا)
یعنی
ذِکْرًا کَثِیْرًا، جَرَی التِّلْمِیْذُ سَرِیْعًا
یعنی
جَرْیًا سَرِیْعًا
(شاگرد نے تیز دوڑ لگائی)