Brailvi Books

نصاب الصرف
89 - 342
فائدہ :

    (۱)۔۔۔۔۔۔وہ فعل جس میں حرفہ و پیشہ کے معنی ہوں اس سے اسم فاعل کاصیغہ فَعَّالٌ کے وزن پرمشتق کیاجاتاہے ۔ جیسےخَیَّاطٌ(درزی )، خَبَّازٌ(نانبائی)

     (۲)۔۔۔۔۔۔ فَاعِلٌ کاصیغہ نسبت کے لیے بھی آتاہے ۔ جیسے :تَامِرٌ (کھجور والا)لَابِنٌ (دودھ والا) اسے ''فاعل ذی کذا''کہتے ہیں۔ نیزنسبت کے لیے اسم جامد سے جو صیغہ فَعَّالٌ کے وزن پربنایا جاتا ہے ، وہ بھی اسی قبیل سے ہے ۔ جیسے:
بَقْلَۃٌ سے بَقَّالٌ
 (سبزی والا)،
تَمَرٌ سے تَمَّارٌ
 (کھجوروالا)،
لَبَنٌ سے لَبَّانٌ
 (دودھ والا)

    (۳)۔۔۔۔۔۔اعداد میں فَاعِلٌ کا صیغہ مرتبہ کے لیے آتاہے۔جیسے:خَامِسٌ(پانچواں) عَاشِرٌ(دسواں)یعنی جو گنتی میں پانچویں یادسویں نمبر پر آئے۔

    (۴)۔۔۔۔۔۔مرکبات میں مرتبہ کے لیے پہلے جزء کو اسم فاعل کے وزن پرلاکر دوسرے جزء کو اس کی حالت پرچھوڑ دیتے ہیں۔جیسے:
حَادِیْ عَشَرَ
 (گیارھواں)
ثَانِیْ عَشَرَ
(بارھواں)
حَادِیْ وَعِشْرُوْنَ
 (اکیسواں)
ثَالِثٌ وَثَلاثُوْنَ
 (تینتیسواں)۔
    (۵)۔۔۔۔۔۔عَشَرَۃٌ کے بعد عقود (دہائیوں)میں ایک ہی صیغہ عدد اور مرتبہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے :عِشْرُوْنَ کامعنی''بیس''بھی ہے اور''بیسواں''بھی ۔
Flag Counter