Brailvi Books

نصاب الصرف
338 - 342
 (۳)۔۔۔۔۔۔مطاوعت:

    جیسے:
اَقَمْتُہ، فَاسْتَقَامَ۔
 ( میں نے اسے کھڑا کیاتو وہ کھڑا ہوگیا ) ۔

(۴)۔۔۔۔۔۔موافقت :

    ( ا لف) موافقت مجرد:

     جیسے:قَرَّ۔کے معنی ہیں( وہ ٹھہر گیا )اور اِسْتَقَرَّکے بھی یہی معنی ہیں۔

    (ب) موافقت اِفْعَالٌ: 

    جیسے:اَجاَبَ۔ کے معنی ہیں (اس نے جواب دیا، قبول کیا )اور اِسْتَجَابَ کے بھی یہی معنی ہیں۔

(۵)۔۔۔۔۔۔ابتداء:

    جیسے: اِسْتَعَانَ۔ (اس نے موئے زیر ناف مونڈے )مجرد عَانَۃٌ(موئے زیر ناف)ہے۔

(۶)۔۔۔۔۔۔طلب ماخذ:

    اس کا ایک مشہور خاصہ طلب ماخذہے یعنی فاعل کا ماخذکو طلب کرنا۔جیسے:اِسْتَعَانَ۔ (اس نے مدد طلب کی ) (ماخذ ''عَوْنٌ''(مدد)ہے)۔

                 (۸،۹) باب افعلال وافعیلال

    ان دونوں کے چارچار خواص ہیں :

(۱، ۲)۔۔۔۔۔۔لزوم، مبالغہ:

    یہ دونوں باب ہمیشہ لازم استعمال ہوتے ہیں اور ان میں ہمیشہ مبالغہ بھی پایا جاتا ہے۔ جیسے:
اِحْمَرَّ، اِحْمَارَّ۔
دونوں کے معنی ہیں (بہت سرخ ہوا وہ )
Flag Counter