( میں نے اسے کھڑا کیاتو وہ کھڑا ہوگیا ) ۔
(۴)۔۔۔۔۔۔موافقت :
( ا لف) موافقت مجرد:
جیسے:قَرَّ۔کے معنی ہیں( وہ ٹھہر گیا )اور اِسْتَقَرَّکے بھی یہی معنی ہیں۔
(ب) موافقت اِفْعَالٌ:
جیسے:اَجاَبَ۔ کے معنی ہیں (اس نے جواب دیا، قبول کیا )اور اِسْتَجَابَ کے بھی یہی معنی ہیں۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ابتداء:
جیسے: اِسْتَعَانَ۔ (اس نے موئے زیر ناف مونڈے )مجرد عَانَۃٌ(موئے زیر ناف)ہے۔
(۶)۔۔۔۔۔۔طلب ماخذ:
اس کا ایک مشہور خاصہ طلب ماخذہے یعنی فاعل کا ماخذکو طلب کرنا۔جیسے:اِسْتَعَانَ۔ (اس نے مدد طلب کی ) (ماخذ ''عَوْنٌ''(مدد)ہے)۔
(۸،۹) باب افعلال وافعیلال
ان دونوں کے چارچار خواص ہیں :
(۱، ۲)۔۔۔۔۔۔لزوم، مبالغہ:
یہ دونوں باب ہمیشہ لازم استعمال ہوتے ہیں اور ان میں ہمیشہ مبالغہ بھی پایا جاتا ہے۔ جیسے: