(اوٹنی گھاس کو کام میں لائی یعنی :اس نے اسے کھایا )(ماخذ لفظ اَلْکَلَأُ((خشک یاترگھاس))ہے) ۔
(۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
فاعل کاماخذ لینا۔ جیسے:غَنِمْتُ (میں نے غنیمت حاصل کی )(ماخذ لفظ اَلْغُنْمُ ((مال غنیمت))ہے) ۔
(۳) باب نصر ینصر
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت :
فاعل کا صاحب ماخذ ہو جانا۔ جیسے:بَابَ زَیْدٌ۔ ( زیدصاحب دروازہ (دربان)بن گیا)(اس میں ماخذلفظ بَابٌ((دروازہ))ہے)۔
(۲)۔۔۔۔۔۔قطع ماخذ:
فاعل کا ماخذ کو کاٹنا۔ جیسے :حَشَشْتُ۔ (میں نے خشک گھاس کاٹی )(ماخذلفظ حَشِیْشٌ ((خشک گھاس))ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔تعمل ماخذ:
فاعل کا ماخذ کو کام میں لانا۔جیسے:قَلاَ زَیْدٌ۔ (زید گلی ڈنڈے کو کام میں لایا یعنی:وہ اس سے کھیلا )(ماخذلفظ اَلْقُلَۃُ ((گلی ))ہے)۔
(۴)۔۔۔۔۔۔سلب ماخذ:
فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کرنا ۔جیسے:قَشَرْتُہ،۔ (میں نے اس سے چھلکا دور کردیا یعنی:ا تاردیا)(ماخذلفظ قِشْرٌ((چھلکا))ہے)۔