Brailvi Books

نصاب الصرف
326 - 342
    بیان امثلہ میں ہرفعل کے ساتھ اس کاماخذاورماخذکے ساتھ قوسین میں مدلول ماخذبھی ذکر کر دیا جائے گا۔
اِنْ شَاءَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ۔
    (۵)۔۔۔۔۔۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ خاصیات میں بیان کیے جانے والے تمام معانی، سماعی ہیں ،قیاس کواس میں دخل نہیں ۔

    (۶)۔۔۔۔۔۔یہ بھی دھیان رہے کہ ضروری نہیں کہ کسی فعل میں ایک وقت میں ایک ہی خاصہ پایاجائے بلکہ ایک وقت میں ایک سے زائدخواص بھی پائے جاسکتے ہیں جیسے:
اَخْرَجْتُ زَیْداً۔
 (میں نے زید کونکالا)اس میں تعدیہ اورتصییر دونوں خواص پائے جارہے ہیں۔

    تعد یہ اس طرح کہ خَرَجَ (مجرد)لازم تھا اور باب اِفْعَالٌ میں آکر متعدی ہوگیا، اور تصییر اس طرح کہ اس میں مفعول کو صاحب ماخذکرنے کامعنی بھی پایا جار ہا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں:
جَعَلْتُ زَیْداً ذَاخُرُوْجٍ۔
 (میں نے زید کوخروج والاکردیا)۔

(۱) باب ضرب یضرب

(۱)۔۔۔۔۔۔قطع ماخذ:

    فاعل کا ما خذ کوکا ٹنا۔ جیسے : خَلَیْتُ۔( میں نے تر گھاس کاٹی ) (اس مثال میں ''تُ'' ضمیرفاعل اور ماخذلفظ اَلْخَلَی اورمدلول ماخذ((ترگھاس)) ہے )۔

(۲)۔۔۔۔۔۔اعطاء ماخذ:

    فاعل کا مفعول کو ماخذدینا۔ جیسے:
اَجَرْتُ الْمَرْءَ۔
(میں نے مرد کو اجرت دی ) (اس مثال میں''تُ'' ضمیر فاعل ، الْمَرْءَ مفعول اورماخذ
لفظاَلْاُجْرَۃُ ((بدلہ)) ہے )۔
Flag Counter