(میں نے زید کونکالا)اس میں تعدیہ اورتصییر دونوں خواص پائے جارہے ہیں۔
تعد یہ اس طرح کہ خَرَجَ (مجرد)لازم تھا اور باب اِفْعَالٌ میں آکر متعدی ہوگیا، اور تصییر اس طرح کہ اس میں مفعول کو صاحب ماخذکرنے کامعنی بھی پایا جار ہا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں:
جَعَلْتُ زَیْداً ذَاخُرُوْجٍ۔
(میں نے زید کوخروج والاکردیا)۔
(۱) باب ضرب یضرب
(۱)۔۔۔۔۔۔قطع ماخذ:
فاعل کا ما خذ کوکا ٹنا۔ جیسے : خَلَیْتُ۔( میں نے تر گھاس کاٹی ) (اس مثال میں ''تُ'' ضمیرفاعل اور ماخذلفظ اَلْخَلَی اورمدلول ماخذ((ترگھاس)) ہے )۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اعطاء ماخذ:
فاعل کا مفعول کو ماخذدینا۔ جیسے:
(میں نے مرد کو اجرت دی ) (اس مثال میں''تُ'' ضمیر فاعل ، الْمَرْءَ مفعول اورماخذ
لفظاَلْاُجْرَۃُ ((بدلہ)) ہے )۔