Brailvi Books

نصاب الصرف
325 - 342
سبق نمبر 52



(۔۔۔۔۔۔خاصیات ابواب کا بیان۔۔۔۔۔۔)
    خاصیات خاصیۃ کی جمع ہے اس سے مراد کسی فعل کے وہ زائد معنی ہیں جو اس کے مادے کے معنی کے علاوہ ہوں مثلا: لَبَنٌ کے معنی صرف''دودھ''کے ہیں اور
اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ۔
کے معنی ہیں:(اونٹنی دودھ والی ہوگئی)اس میں ''دودھ والی ہونے''کے معنی زائد ہیں۔

تنبیہ:

    (۱)۔۔۔۔۔۔خیال رہے اس باب میں خاصیت یا خاصہ کے وہ معنی مراد نہیں جو مناطقہ کے یہاں مشہورہیں یعنی:
''خَاصَّۃُ الشَّيْءِ مَایُوجَدُ فِیْہِ وَلَایُوْجَدُ فِيْ غَیْرِہٖ''۔
بلکہ یہاں اس کے وہی معنی ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے اس لیے کہ بہت سے خواص متعدد ابواب میں مشترک ہیں۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔اس باب میں''ماخذ''سے مراد فعل کا مادہ اشتقاق (جس سے فعل بنایا گیاخواہ وہ مصدر ہو یا اسم جامد )ہوگا۔

    (۳)۔۔۔۔۔۔'' مدلول ماخذ''سے مراد وہ معنی ہیں جس پرماخذ دلالت کرے مثلاً :
اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ۔
میں فعل''اَلْبَنَتْ ''کا ماخذ''لَبَنٌ''ہے اور مدلول ماخذوہ ہے جس پر لفظ''لَبَنٌ ''دلالت کررہاہے یعنی(دودھ)

    (۴)۔۔۔۔۔۔اس باب میں ذکر، ماخذ کاکیا جائے گا اور مراد ہر جگہ مدلول ماخذ ہی ہوگا۔ مثلاً :فاعل کے صاحب ماخذہونے کی مثال میں کہا جائے:
''اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ''
تو اس کا مطلب ہوگا: ''اونٹنی دودھ والی ہوگئی '' نہ یہ کہ ''اونٹنی لفظ لبن والی ہوگئی''۔
وَھُوَظَاہِرٌجَلِيٌّ غَیْرُخَفِيٍّ۔
Flag Counter