Brailvi Books

نصاب الصرف
229 - 342
         قا عد ہ (۶): 

    جو حرف علت اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے، اجتماع ساکنین ختم ہو جانے کی صورت میں اسے واپس لانا واجب ہے ۔ جیسے:بِعْ کاتثنیہ بِیْعَا بنے گا۔ 

قا عد ہ (۷): 

    باب اِفْعَالٌ اوراِسْتِفْعَالٌ کے مصدر میں عین کلمہ کی جگہ اگر واؤ یا یاء ہوتو واو ئیایاء کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کرکے واؤ اور یاء کو الف سے بدل کر حذف کریں اور اس کے عوض آخر میں تاء کا اضافہ کردیں ۔جیسے:اِقْوَامٌ سے اِقَامَۃٌ ، اوراِسْتِقْوَامٌ سے اِسْتِقَامَۃٌ۔

قا عد ہ (۸): 

    مصد ر کا عین کلمہ واؤ ہو اور اس کا ما قبل مکسور ہو تو واؤ کو یاء سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اس کے فعل ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو ۔ جیسے:صِوَامٌ سے صِیَامٌ۔ (اس کا فعل ماضی ''صَامَ''ہے جس میں تعلیل ہوچکی ہے کیونکہ یہ اصل میں ''صَوَمَ''تھا)

تنبیہ:

    باب مُفَاعَلَۃٌکے مصدر قِوَامٌ میں واؤ کو یاء سے تبدیل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کی ماضی(قَاوَمَ)میں تعلیل نہیں ہوتی ۔

قا عد ہ (۹): 

    ہر وہ مصدر جو فَعْلُوْلَۃٌ کے وزن پر ہو اور اس کے عین کلمہ میں واؤ آجائے تو اسے یاء سے بدل دیا جاتا ہے ۔ جیسے:کَوْنُوْ نَۃٌ سے کَیْنُوْنَۃٌ۔

قا عد ہ (۱۰): 

    ہر وہ واؤ اور یاء جو اسم فاعل کے عین کلمہ میں ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے