Brailvi Books

نصاب الصرف
188 - 342
یَمْسَسُ سے یَمَسُّ۔
قاعدہ (۴):

    ایسے دوہم جنس یاہم مخرج حروف جن میں سے پہلا حرف ساکن غیرمدہ ہو توپہلے حرف کا دوسرے میں ادغام کردینا واجب ہے ۔ جیسے:
مَدْدٌ سے مَدٌّ اوراِدْتَعٰی سے اِدْتَّعٰی۔
قاعدہ (۵):

    دو ہم جنس حروف ایک کلمے میں اکٹھے ہوں،ان میں سے پہلاحرف متحرک اور دوسرا سکون عارضی کی وجہ سے(بوجہ امر یابوجہ حرفِ جازم)ساکن ہو تواسے تین طریقوں سے پڑھنا جائز ہے۔ جیسے:
لَمْ یَفِرَّ، لَمْ یَفِرِّ، لَمْ یَفْرِرْ۔
اوراگر پہلے حرف کاماقبل مضموم ہوتو ضمہ دینا بھی جائز ہے ۔ جیسے:
لَمْ یَمُدَّ، لَمْ یَمُدِّ، لَمْ یَمُدُّ، لَمْ یَمْدُدْ۔
قاعدہ (۶):

    مصدر کے علا وہ ہر وہ اسم جو فِعَّالٌ کے وزن پر ہو، اس کے پہلے عین کلمہ کو یاء سے بدلنا واجب ہے ۔ جیسے:
دِنَّارٌ سے دِیْنَارٌ۔
''ادغام کی شرائط ''

     دو حروف میں ادغام کے لیے در ج ذیل شرائط کاپایاجانالازم ہے، اگران میں سے ایک بھی شرط مفقود ہو تو ادغام ممنوع ہو گا۔

    (۱)۔۔۔۔۔۔ اُن دونوں حروف میں سے پہلا حر ف مدغم فیہ نہ ہو ۔ جیسے:حَبَّبَ۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔ ان میں سے کوئی حرف الحاق کے لیے زائد نہ ہو ۔ جیسے:جَلْبَبَ۔

    (۳) ۔۔۔۔۔۔ان میں سے کوئی حرف تعلیل کا تقاضا نہ کرتا ہو ۔ جیسے:قَوِوَ۔
Flag Counter