Brailvi Books

نحو مِير
30 - 202
    (۷)۔۔۔۔۔۔منسوب (۱)ہونا۔ جیسے:
مَکِّیٌّ، مَدَنِیٌّ، بَغْدَادِیٌّ۔
    (۸)۔۔۔۔۔۔تثنیہ ہونا۔ جیسے:
رَجُلَانِ، عَالِمَانِ۔
  (۹)۔۔۔۔۔۔جمع ہونا(۲)۔ جیسے:
رِجَالٌ۔
(۱۰)۔۔۔۔۔۔موصوف ہونا۔ جیسے:
جَاءَ رَجُلٌ عَالِمٌ۔
 (۱۱)۔۔۔۔۔۔ آخر میں تاء متحرک کا ہونا۔ جیسے:
ضَارِبَۃٌ۔
فعل کی علامات(۳) :
 (۱)۔۔۔۔۔۔ابتداء میں حرف''قَدْ'' کاہونا۔ جیسے:
قَدْ ضَرَبَ۔
   (۲)۔۔۔۔۔۔یا''س'' کاہونا۔ جیسے:
سَیَضْرِبُ۔
 ________________________________________

 حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی مد ظلہ العالی سرکارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ، فیض گنجینہ، صاحب معطرومعنبر پسینہ، باعث ِنزولِ سکینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے لفظ ''کملی والا'' استعمال کرنے سے منع فرماتے ہیں؛ کیوں کہ''کملی'' تصغیرہے یعنی چھوٹی چادر۔

1۔۔۔۔۔۔منسوب:وہ اسم جس کے آخر میں نسبت کی مشدد یاء زائد کی گئی ہو تاکہ اس ذات پر دلالت کرے جس کی نسبت اس اسم کی طرف ہے۔ جیسے:بَغْدَادِیٌّ(بغداد والا) مَدَنِیٌّ(مدینہ طیبہ والا) عَطَّارِیٌّ(عطار والا یعنی شیخ طریقت امیر ِاہل ِسنت حضرت علامہ ومولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی مدظلہ العالی کا مرید یا طالب)

2۔۔۔۔۔۔ خیال رہے کہ فعل کوواحد، تثنیہ اور جمع کہنا محض مجازاً ہے حقیقۃًواحد، تثنیہ اور جمع اس کا فاعل ہوتاہے یعنی:الف تثنیہ اور واوِجمع وغیرہ ۔ 

3۔۔۔۔۔۔مصنف نے فعل کے آٹھ خواص بیان کیے ہیں:قَدْ کا ابتدا ء میں ہونا۔ قَدْ فعل ماضی پر آئے تو تقریب (زمانہ ماضی کو حال کے قریب کرنے )اور تحقیق کا فائدہ دیتاہے۔ جیسے:(قَدْ سَمِعَ اللَّہُ)مضارع پر آئے توعموماً تقلیل اور کمی کا فائدہ دیتاہے۔ جیسے:قَدْ یَقْرَءُ زَیْدٌ۔(زید کبھی پڑھتا ہے۔)اور کبھی مضارع پرآکر بھی تحقیق کا فائدہ دیتاہے۔جیسے: (قَدْ یَعْلَمُ اللَّہُ الْمُعَوِّقِینَ)۔ (ف)سین اور سَوْفَ صرف فعل مضارع پر داخل ہوتے ہیں اور اسے مستقبل قریب کے معنی میں کردیتے ہیں، سین میں سَوْفَ کی نسبت زیادہ قرب پایا جاتاہے۔
Flag Counter