Brailvi Books

نحو مِير
176 - 202
بہ، فعل بافاعل ومفعول بہ جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا،
وتشرب اللبن
میں واو کے بعد ان مقدر ہے لہذا یہ مجموع مصدر کے معنی میں ہوا یہ معطوف ہے معطوف علیہ مقدر پرجو ما قبل سے سمجھا جارہاہے، اصل عبارت یہ ہے:
لاَ یَجْتَمِعْ مِنْکَ اَکْلُ السَّمَکِ وَشُرْبُ اللَّبَنِ۔
اسی طرح
زُرْنِیْ فَاُکْرِمَکَ
میں
فاکرمک
کا معطوف علیہ ماقبل سے مفہوم ہے:
لِیَجْتَمِعْ مِنْکَ الزِّیَارَۃُ۔
اور
لَیْتَ لِیْ مَالاً فَانْفِقَہ،
میں یہ ہے:
لَیْتَ لِیْ ثُبُوْتُ مَالٍ،
اسی طرح باقی مثالوں میں۔
(51)۔۔۔۔۔۔''اِنْ تَأْتِنِیْ فَاَنْتَ مُکْرَمٌ''
ترکیب:ان:حرف شرط مبنی الاصل مبنی بر سکون ، تأت:(صیغہ؟ مہموز الفاء ناقص یائی از باب ضرب)فعل مضارع معتل یائی مرفوع بضمہ تقدیرا منصوب بفتحہ لفظا ومجزوم بحذف آخر بسبب حرف شرط فعل ، أنت:اس میں پوشیدہ ،أن:ضمیر مرفوع متصل مستتر واجب الاستتار اسم غیر متمکن مشابہ مبنی الاصل مبنی برسکون مرفوع محلا بسبب فاعلیت فاعل، تاء:علامت خطاب نون:وقایہ، یاء:ضمیر واحد متکلم منصوب متصل مفعول بہ، فعل بافاعل ومفعول بہ جملہ فعلیہ خبریہ شرط ، فاء جزائیہ مبنی الاصل مبنی برفتح ،أنت میں أن: ضمیر مرفوع منفصل مرفوع محلا مبتدا، تاء:علامت خطاب، مکرم:(صیغہ؟)صیغہ صفت ،أنت:اس میں پوشیدہ، أن:ضمیر مرفوع متصل مستتر جائز الاستتار ، نائب فاعل ، صیغہ صفت بانائب فاعل خبرِ مبتدا، مبتدا باخبر جملہ اسمیہ خبریہ مجزوم محلا جزا، شرط باجزا خود جملہ شرطیہ ہوا۔
(52)۔۔۔۔۔۔''اِنْ اَکْرَمْتَنِیْ فَجَزَاکَ اللہُ خَیْراً ''
ترکیب:ان:حرف شرط،
أکرمتنی:
حسب سابق شرط ،فا ء: جزائیہ ،جزی:فعل، ک:ضمیر مفعول بہ اول، اسم جلالت :فاعل، خیراً:مفعول بہ ثانی، فعل بافاعل
Flag Counter