غلام نبی عطاری علیہ رحمۃالباری کی میت کو تدفین کیلئے ان کے آبائی شہر کوہاٹ (سرحد)کے ايک گاؤں ميں لے جايا گيا۔ جس قبرستان ميں دفن کيا گيا وہاں کے گورکن کا کہنا ہے کہ چند دن قبل گاؤں کی کسی عورت کے انتقال پَر مجھے قَبْر کھودنے کاحکم ملا۔میں نے جب قَبْر کھودنا شروع کی تو عجیب معاملات پائے، میں کدال چلاتا اس سے پہلے خود ہی مٹی نکل پَڑتی اور قَبْرکی دیواروں پَر عجیب چمک پاتا۔میں چونکہ اس عورت اور اسکے گھر کے افراد سے واقف تھا اور بظاہر ان میں کوئی نیک نامی والی بات نہیں پاتا تھا اسلئے میں یہ بَرَکتیں دیکھ کر حیران تھا۔پھر کسی وجہ سے ان لوگوں نے ا س عورت کی تدفین کسی اور جگہ قَبْرکھود وا کرکی۔یوں یہ با بَرَکت قَبْر خالی رہ گئی۔ پھر چند دنوں بعد باب المدینہ (کراچی) سے عاشقِ رسول غلام نبی عطاری علیہ رحمۃالباری کاجَسَدِ مبارَک لایا گیا تو ان کی تدفین کیلئے اسی با بَرَکت قَبْر کو منتخب کیا گیا۔اب معاملہ میری سمجھ میں آگیا کہ دکھائی دینے والی یہ برکتیں اس عاشقِ رسول کی وجہ سے تھیں ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو