''آ ج میرے فارو ق کی ہر طر ف دُھوم ہے میرے مَدَنی بیٹے کی قسمت۔۔۔۔۔۔ (پھر آپ مدظلہ العالی نے وہ مقامات گنوائے جہاں جہاں ٹیلی فون اور انٹر نیٹ کے ذریعے تیجے کا بیان سنا جارہا تھا ۔جب دوران ِ بیان نگرانِ شوریٰ نے امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کو لکھ کر دیا کہ میں ہاتھوں ہاتھ شرعی راہنمائی کے حُصول کے لئے مفتی فاروق علیہ الرحمۃ کی طرف رُجُوع کیاکرتا تھا تو آپ مدظلہ العالی نے عاجزی کرتے ہوئے فرمایا) سچی بات یہ ہے کہ(نگرانِ شوریٰ کی طرح ) میں بھی (شرعی مسائل وغیرہ کے سلسلے میں کبھی کبھار)فاروق بھائی کی طر ف رجوع کرتا تھا اوربار ہاان سے مشورے بھی کیاکرتا تھا، خدا عزوجل کی قسم! اسی وجہ سے مجھے زیادہ صدمہ ہے ورنہ موت تو بر حق ہے' آنی ہی ہے ۔(اس کے بعد فرمایا) اِن کو حفاظتِ ایمان کی ایسی فکر ہوتی تھی کہ آپ کو کیا بتاؤں ؟ میں نے خود ان کے معاملات کو قریب سے دیکھا ہے ۔