| مفتی دعوتِ اسلامی |
اپنی منکوحہ سے فرمادیا تھا کہ میں زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکوں گا ۔ آپ اکثر گھر والوں سے فرماتے کہ میری عمر بہت کم ہے میں زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہوں گا ۔ جب کبھی ان کی نانی ان سے فرماتیں کہ بیٹا میرا جنازہ تم پڑھانا ، تو آپ جواب دیتے کہ نانی ! میری عمر بہت کم ہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے گھر والوں کا بیان ہے کہ اپنی منکوحہ کو شادی کے کچھ عرصے بعد ہی تاکید کردی تھی کہ میرا چھوڑاہوا مال شریعت کے مطابق تقسیم کرنا۔
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
قناعت پسندی :
جامعۃ المدینہ ہو یا دارالافتاء ، مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ نہیں کیا۔ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مدظلہ العالی کا بیان ہے کہ
''حال ہی میں(یعنی ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل) ان کا مشاہرہ بڑھاتھاتو یہ میرے گھر خو دتشریف لائے ۔انتہائی پریشانی کے عالم میں تھے۔مجھ سے فرمانے لگے کہ میری تنخواہ کافی بڑھ گئی ہے، مجھے اس زائد رقم کی حاجت نہیں ہے لہٰذا مجھ پر کرم کیا جائے اور میرا مشاہرہ نہ بڑھایا جائے۔''
حقیقت یہی ہے کہ تصوف ''قال'' کا نہیں ''حال ''کانام ہے ، اور یہ حقیقی صوفی ، متقی بزرگ تھے۔''(انتہی)
اپنے انتقال سے کچھ عرصہ قبل مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی اسکوٹراورلیپ ٹاپ ( Lap top )کمپیوٹروغیرہ سب بیچ دیاتھااور فرمایاکہ اب مجھے اس