| مفتی دعوتِ اسلامی |
'' مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ زبان کا مضبوط قفل مدينہ ۱ ؎ لگاتے تھے ۔مُتعدَّد مرتبہ ايسا ہو اکہ میں موٹر سائيکل پر دار الافتاء نور العرفان کھارادرسے فيضان مدينہ باب المدینہ کراچی ' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ آيا ليکن راستے ميں مکمل خاموش رہے۔ جب فيضان مدينہ پہنچ گئے تو سلام کر کے رخصت ہو گئے ۔پيٹ کا قفل مدينہ۲؎ بھی مضبوط تھا، عموماً دن رات ميں دو مرتبہ اور کبھی کبھار ڈبل بارہ گھنٹوں ميں ايک مرتبہ کھانا کھاتے ۔ آنکھوں کے قفل مدينہ۳؎ کابھی زبردست ذہن تھا ،موٹر سائيکل اس لئے بيچ دی کہ چلاتے ہوئے غير محرم عورَت آڑے آجانے کی صورت میں نظر کی حفاظت بے حد کٹھن ہے۔ايک دفعہ کسی گاڑی ميں ان کے ساتھ سفر کا موقع ملا ميں نے انہيں شيشوں کے باہر نظر ڈالتے ہوئے نہيں ديکھا ۔''
مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر والوں کا بیان ہے کہ '' یہ بہت کم گفتگو فرماتے تھے،اکثر خاموش ہی رہتے۔بعض اوقات گھر والوں سے لکھ کر بھی بات چیت کرتے تھے۔''
آپ کے علاقے گلشن اقبال (بابُ المدینہ )کے ایک اسلامی بھائی کا تحریری بیان ہے، ''ایک بار طے ہوا کہ بعد ِفجر مرحوم نگرانِ شوریٰ حاجی مشتا ق عطاری رحمۃ اللہ تعالیٰ
۱؎ غیر ضَروری باتوں سے بچنے اور خاموشی اختیار کرنے کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں ''زَبان کا قفلِ مدینہ'' لگانا کہتے ہیں۔ ۲؎ بھوک سے کم کھانے کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں پیٹ کا قفل ِ مدینہ کہتے ہیں ۔مزید تفصیل کے لئے امیرِ اہل ِسنت مدظلہ العالی کی مایہ ناز تالیف ''پیٹ کا قفل ِ مدینہ '' کا مطالعہ فرمائیں۔ ۳؎ بدنگاہی کے علاوہ فضول نگاہی سے بھی بچنے (اور اکثر نیچی نگاہیں رکھنے )کو دعوتِ اسلامی میں ''آنکھوں کا قفلِ مدینہ'' کہتے ہیں ۔